Psychology

مائنڈ سیٹ

یہ خلاصہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ Read this summary in English →

تعارف

کیرل ڈویک (Carol Dweck) اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ہیں۔ ان کی کتاب مائنڈ سیٹ (Mindset) بتاتی ہے کہ ہم اپنی صلاحیت کے بارے میں جو مانتے ہیں، وہ ہماری زندگی کے تقریباً ہر حصے پر اثر ڈالتا ہے۔ وہ دو طرح کی سوچ میں فرق کرتی ہیں۔ جمی ہوئی سوچ (fixed mindset) صلاحیت کو پیدائشی سمجھتی ہے۔ بڑھنے والی سوچ (growth mindset) مانتی ہے کہ صلاحیت محنت اور سیکھنے سے بڑھائی جا سکتی ہے۔ کتاب پڑھائی، کھیل، کاروبار اور رشتوں میں اس فرق کے نتیجے دکھاتی ہے۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے

وہ طالب علم جن پر بچپن میں ذہین یا کمزور کا ٹھپا لگ گیا اور اب وہ خود اسے سچ مانتے ہیں۔ اور وہ والدین اور اساتذہ جو ایسے ٹھپے لگاتے ہیں۔ یہ ان کے لیے بھی کام کی ہے جو ہر اس کام سے بچتے ہیں جس میں ناکامی کا ڈر ہو۔

صلاحیت کے بارے میں دو سوچیں

ڈویک کا دعویٰ ہے کہ آپ اپنی صلاحیت کے بارے میں جو مانتے ہیں، مشکل وقت میں آپ کا رویہ اسی سے طے ہوتا ہے۔ جمی ہوئی سوچ میں ذہانت اور ٹیلنٹ کی مقدار مقرر ہے۔ آپ کے پاس جتنی ہے اتنی ہی رہے گی، اور آپ کا کام اسے ثابت کرنا ہے۔ بڑھنے والی سوچ میں صلاحیت محنت، بہتر طریقوں اور دوسروں کی مدد سے بڑھائی جا سکتی ہے۔ وہ یہ نہیں کہتیں کہ ہر کوئی کچھ بھی بن سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کوئی پہلے سے نہیں جان سکتا کہ برسوں کی تربیت کے بعد ایک انسان کہاں تک پہنچے گا۔

یہ خیال ان کی ابتدائی تحقیق سے نکلا۔ انہوں نے بچوں کو پہیلیاں دیں جو ایک کے بعد ایک مشکل ہوتی گئیں، اور دیکھا کہ بچے مشکل پہیلیوں سے کیسے نمٹتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ کچھ بچے ناکامی کو دوسروں سے بہتر سہہ لیں گے۔ سامنے یہ آیا کہ کچھ بچوں کو لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ ناکام ہو رہے ہیں۔ انہیں مشکل پہیلیوں میں مزہ آ رہا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ کچھ سیکھ رہے ہیں۔ ڈویک حیران ہوئیں۔ اگلی کئی دہائیاں انہوں نے یہ سمجھنے میں لگائیں کہ یہ بچے ان بچوں سے کس بات میں الگ تھے جو چھوڑ دینا چاہتے تھے۔

محنت اور ناکامی کا مطلب

ایک ہی واقعے کا مطلب دونوں سوچوں میں الٹ نکلتا ہے۔ جمی ہوئی سوچ میں محنت کی ضرورت پڑنا بری علامت ہے، کیونکہ جو واقعی باصلاحیت ہو اسے تو سب آسان لگنا چاہیے۔ ناکامی اس سے بھی بری ہے۔ وہ ایک واقعہ نہیں رہتی، آپ کی ذات پر فیصلہ بن جاتی ہے۔ اس لیے لوگ اپنا بچاؤ کرتے ہیں۔ وہی کام چنتے ہیں جو انہیں آتا ہو۔ یا کوشش ہی چھوڑ دیتے ہیں، تاکہ برا نتیجہ آئے تو کہہ سکیں کہ مجھے پروا ہی نہیں تھی۔

مثلاً وہ لڑکا جو خاندان بھر میں مشہور ہے کہ ریاضی میں بہت تیز ہے۔ کلاس میں وہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ پوچھنے سے ظاہر ہوگا کہ اسے سمجھ نہیں آئی۔ اسی وجہ سے وہ کتاب کے سب سے مشکل سوال بھی چھوڑ دیتا ہے۔ جو تعریف اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے تھی، دو سال میں وہی اسے اس مضمون میں کمزور کر دیتی ہے۔ بڑھنے والی سوچ میں بھی کم نمبر دکھ دیتے ہیں، اور ڈویک یہ صاف کہتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ وہاں کم نمبر یہ بتاتے ہیں کہ اب کس چیز پر کام کرنا ہے۔

ذہانت کی تعریف کا نقصان

کتاب کی سب سے مشہور تحقیق تعریف کے بارے میں ہے۔ ڈویک اور ان کے ساتھیوں نے بچوں کو کچھ سوال حل کرنے کو دیے اور پھر دو میں سے ایک طرح تعریف کی۔ کچھ بچوں سے کہا گیا کہ تم بہت ذہین ہو۔ کچھ سے کہا گیا کہ تم نے بہت محنت کی ہوگی۔ بعد میں جب انہیں اگلا کام چننے کو کہا گیا تو ذہانت کی تعریف سننے والے بچے زیادہ تر آسان کام کی طرف گئے، جہاں وہ ذہین نظر آتے رہیں۔ سوال مشکل ہوئے تو ان کا مزہ کم ہو گیا اور کارکردگی گر گئی۔ جب ان سے کہا گیا کہ دوسرے بچوں کو اپنے نمبر بتائیں تو کچھ نے نمبر بڑھا کر بتائے۔

والدین اور اساتذہ کے لیے ان کا مشورہ اسی سے نکلتا ہے۔ تعریف اس کی کریں جو بچے نے کیا، جیسے اس کا طریقہ یا یہ کہ اس نے کتنی بار کوشش کی۔ پیدائشی ذہانت والی تعریف سے بچیں۔ جو ماں رشتے داروں کو بتاتی ہے کہ میری بیٹی اتنی ذہین ہے کہ اسے پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، وہ بیٹی کے لیے جال بچھا رہی ہے۔ جس دن بچی کو واقعی پڑھنا پڑے گا، اسے لگے گا کہ جس بات پر سب اسے سراہتے تھے وہ اس سے چھن گئی۔

کھیل اور کاروبار میں ٹیلنٹ

ڈویک یہی بات بڑوں میں بھی دکھاتی ہیں۔ کھیل میں وہ اس خیال کے خلاف دلیل دیتی ہیں کہ کچھ کھلاڑی پیدائشی ہوتے ہیں۔ بڑھنے والی سوچ کی ان کی بڑی مثال مائیکل جارڈن (Michael Jordan) ہیں۔ شروع میں وہ اپنے ہائی اسکول کی سب سے اوپر والی ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے تھے۔ وہ اس بات کے لیے مشہور ہوئے کہ ہر ناکامی کے بعد اپنے کھیل کے سب سے کمزور حصے کی مشق کرتے تھے۔ دوسری طرح کی مثال ٹینس چیمپئن جان میکنرو (John McEnroe) ہیں۔ ڈویک کے بیان کے مطابق وہ ٹیلنٹ کو مانتے تھے، محنت کرنا انہیں ناگوار تھا، اور ہارنے پر وہ قصور باہر کی چیزوں پر ڈالتے تھے۔

کاروبار میں وہ اینرون (Enron) کا ذکر کرتی ہیں۔ یہ کمپنی غیر معمولی ذہانت دیکھ کر بھرتی کرتی تھی اور ہر وقت اسی کی تعریف کرتی تھی۔ ڈویک کے مطابق ایسے ماحول میں غلطی ماننا یہ ماننے جیسا تھا کہ میں اتنا باصلاحیت نہیں ہوں۔ اس لیے مسئلے چھپے رہے۔ وہ دو طرح کے لیڈروں کا موازنہ کرتی ہیں۔ ایک وہ جنہیں ہر جگہ سب سے بڑا بن کر رہنا ضروری تھا۔ دوسرے وہ جو اپنی ٹیم کی بات سنتے تھے اور بری خبر سننے کو تیار رہتے تھے۔

شادی، دوستی اور پڑھانا

جمی ہوئی سوچ اس پر بھی اثر ڈالتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ شادی اور دوستی میں یہ اس خیال کی شکل میں آتی ہے کہ اچھے رشتے پر محنت نہیں کرنی پڑتی، اور اگر اختلاف ہوا ہے تو ضرور دوسرے میں کوئی خرابی ہے۔ ڈویک کہتی ہیں کہ بڑھنے والی سوچ رکھنے والے لوگ مسئلوں پر بات کرنے کو زیادہ تیار ہوتے ہیں۔ ان کے لیے مسئلہ حل کرنے کی چیز ہے، جو دونوں میں سے کسی کے بارے میں کوئی آخری بات نہیں کہتا۔

اساتذہ کے لیے سبق معیار کے بارے میں ہے۔ وہ شکاگو کی ماروا کولنز (Marva Collins) جیسے اساتذہ کا ذکر کرتی ہیں۔ انہوں نے ایسے بچے لیے جن سے اسکول ہاتھ اٹھا چکے تھے اور انہیں مشکل چیزیں پڑھائیں، شیکسپیئر (Shakespeare) تک۔ ان اساتذہ نے بچوں کا دل رکھنے کے لیے معیار نیچے نہیں کیا۔ معیار اونچا رکھا اور پھر بچوں کو دکھایا کہ وہاں تک کیسے پہنچنا ہے۔ ڈویک کے خیال میں دونوں عام طریقے ناکام ہیں۔ کمزور طالب علم سے کہنا کہ تم ٹھیک جا رہے ہو، ایک جھوٹ ہے جو اسے ایک دن معلوم ہو جائے گا۔ اور پڑھنے کا طریقہ سکھائے بغیر اچھے نمبر مانگنے سے صرف ڈر پیدا ہوتا ہے۔

سوچ بدلنا، اور اس کی نقلی شکل

مائنڈ سیٹ دراصل ایک یقین ہے، اور ڈویک کہتی ہیں کہ یقین بدلا جا سکتا ہے۔ کتاب کے نئے ایڈیشن میں انہوں نے ایک تنبیہ شامل کی ہے۔ اب بہت سے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی سوچ بڑھنے والی ہے، جبکہ ان کا مطلب بس یہ ہوتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ہیں۔ یا وہ محنت کی تعریف کرتے رہتے ہیں، چاہے اس محنت سے کچھ سیکھا نہ جا رہا ہو۔ اسے وہ نقلی بڑھنے والی سوچ (false growth mindset) کہتی ہیں۔ اگر ایک طریقے سے محنت کرنے کا فائدہ نہیں ہو رہا تو حل یہ ہے کہ طریقہ بدلیں یا کسی سے مدد لیں۔

وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ کوئی انسان خالص ایک قسم کا نہیں ہوتا۔ ہر ایک میں دونوں سوچیں ملی ہوتی ہیں، اور کچھ موقعے جمی ہوئی سوچ کو باہر لے آتے ہیں۔ جیسے جب کوئی تنقید کرے، یا آپ اپنے ہی مضمون میں کسی ایسے شخص سے ملیں جو آپ سے بہت بہتر ہو۔ ان کا عملی مشورہ ہے کہ پہچانیں کہ آپ کی یہ سوچ کن باتوں پر جاگتی ہے، اور اس آواز کو ایک نام دے دیں۔ جب وہ بولے تو اسے ویسے ہی جواب دیں جیسے کسی فکرمند رشتے دار کو دیتے ہیں جو نہیں چاہتا کہ آپ کوئی خطرہ مول لیں۔

اس ہفتے آزمائیں

  1. اس ہفتے کوئی ایک ایسا کام پہچانیں جس سے آپ اس ڈر سے بچ رہے ہیں کہ اچھا نہیں ہوگا، اور اس کا چھوٹا سا حصہ پھر بھی کر ڈالیں۔
  2. کسی بچے یا جونیئر ساتھی کی تعریف کریں تو بتائیں کہ اس نے کیا اچھا کیا، جیسے اس کا طریقہ یا لگائے ہوئے گھنٹے، اور ذہین یا جینئس جیسے لفظ چھوڑ دیں۔
  3. اگلی بار نمبر کم آئیں یا تنقید ہو تو کوئی بہانہ لکھنے سے پہلے دو ایسے کام لکھیں جو آپ اگلی بار مختلف کریں گے۔
  4. ان موقعوں کی فہرست بنائیں جن میں آپ کی جمی ہوئی سوچ جاگتی ہے، اور اس آواز کو ایک نام دیں تاکہ جب وہ بولے آپ اسے پہچان لیں۔
  5. کوئی ایک ہنر چنیں جس کے بارے میں آپ ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ یہ میرے بس کا نہیں، اور ایک ہفتہ روز بیس منٹ اسے کسی ایسے طریقے سے سیکھیں جو پہلے نہیں آزمایا۔

ہماری بے لاگ رائے

خیال سادہ ہے، اور کتاب اسے کھلاڑیوں اور کمپنیوں کے سربراہوں کے قصوں سے کئی بابوں تک کھینچتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر قصے بعد میں اس لیے چنے گئے کہ بات پر پورے بیٹھتے تھے۔ اس سے بڑی بات یہ ہے کہ بعد کی بڑی تحقیقات اور جائزوں میں سامنے آیا کہ مائنڈ سیٹ اور اسکول کے نتیجوں کا تعلق، اور بڑھنے والی سوچ سکھانے کا اثر، دونوں اس سے کہیں چھوٹے ہیں جتنا کتاب سے لگتا ہے۔ سب سے واضح فائدہ ان طالب علموں میں دیکھا گیا جو پہلے سے مشکل میں تھے۔ کتاب حالات پر بھی کم بات کرتی ہے۔ جو طالب علم غریب اسکول میں پڑھتا ہے اور کتابوں کے پیسے نہیں رکھتا، اسے صرف اس کی سوچ نے نہیں روک رکھا۔

عام سوالات

کیا مائنڈ سیٹ پڑھنے کے قابل ہے؟

ہاں، خاص طور پر اگر آپ پر بچپن میں ذہین یا کمزور کا ٹھپا لگا تھا، یا آپ خود بچوں کی تعریف کرتے ہیں۔ خیال سادہ ہے اور کتاب اسے کئی بابوں تک کھینچتی ہے، اور بعد کی تحقیق میں اس کا اثر کتاب کے دعوے سے چھوٹا نکلا ہے۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے؟

وہ طالب علم جن پر بچپن میں ذہین یا کمزور کا ٹھپا لگ گیا اور اب وہ خود اسے سچ مانتے ہیں۔ اور وہ والدین اور اساتذہ جو ایسے ٹھپے لگاتے ہیں۔ یہ ان کے لیے بھی کام کی ہے جو ہر اس کام سے بچتے ہیں جس میں ناکامی کا ڈر ہو۔

"Becoming is better than being. The fixed mindset does not allow people the luxury of becoming."

— Carol S. Dweck, Mindset: The New Psychology of Success

یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔

ایپ حاصل کریں
Read summaries offline in the free app MyByteNest for Android: 268 book summaries, 50 of them in depth, some in Urdu. No sign-up and no subscription.
Get it on Google Play