تعارف
اینی ڈیوک (Annie Duke) کی کتاب تھنکنگ اِن بیٹس (Thinking in Bets) بہتر فیصلے کرنے کے بارے میں ہے۔ مصنفہ پہلے پیشہ ور پوکر کھلاڑی تھیں اور وہاں سیکھے ہوئے طریقے عام زندگی کے فیصلوں پر لگاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں یقینی کچھ نہیں، اس لیے ہر فیصلے کو پکی بات کے بجائے امکان کے حساب سے سوچنا چاہیے۔ جو شخص مان لے کہ اسے پوری بات معلوم نہیں اور نتیجے میں قسمت کا بھی ہاتھ ہے، وہ کہیں بہتر فیصلے کرنے لگتا ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے
وہ لوگ جو پرانے فیصلوں کو بار بار ذہن میں دہراتے ہیں اور جو بھی ہوا اس کا الزام خود کو دیتے ہیں۔ یہ ان طالب علموں اور نئے نوکری پیشہ لوگوں کے لیے بھی کام کی ہے جنہیں ادھوری معلومات پر بڑے فیصلے کرنے ہیں، جیسے کون سی ڈگری لیں یا نوکری کی پیشکش قبول کریں یا نہیں۔
فیصلے کو نتیجے سے پرکھنا
ڈیوک کی پہلی بات یہ ہے کہ ہم فیصلے کو اس کے نتیجے سے پرکھتے ہیں، اور یہ عادت ہمیں غلط سبق سکھاتی ہے۔ اس عادت کو پوکر کھلاڑی ریزلٹنگ (resulting) کہتے ہیں۔ کتاب امریکی فٹ بال کے ایک کوچ سے شروع ہوتی ہے۔ چیمپئن شپ کے فائنل کے آخری سیکنڈوں میں اس نے گیند پاس کرنے کا فیصلہ کیا۔ مخالف ٹیم نے گیند پکڑ لی اور اس کی ٹیم ہار گئی۔ تبصرہ کرنے والوں نے اسے تاریخ کے بدترین فیصلوں میں گنا۔ ڈیوک کہتی ہیں کہ بچا ہوا وقت اور گیند پکڑے جانے کا کم امکان دیکھا جائے تو فیصلہ معقول تھا۔
کھیل کے باہر بھی یہی ہوتا ہے۔ ایک طالب علم امتحان سے پہلے ایک باب چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ پچھلے پرچوں میں اس سے تقریباً کبھی سوال نہیں آیا۔ پھر اسی باب سے سوال آ جاتا ہے۔ بعد میں یہ فیصلہ بے وقوفی لگتا ہے، حالانکہ اس وقت جو معلومات تھیں ان کے حساب سے ٹھیک تھا۔ الٹی صورت اس سے بھی بری ہے۔ کوئی موبائل دیکھتے ہوئے مصروف سڑک پار کرتا ہے، دوسری طرف پہنچ جاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ اس میں کوئی خطرہ نہیں۔ ڈیوک کہتی ہیں کہ پچھلے سال کے اپنے سب سے اچھے اور سب سے برے فیصلے لکھیں۔ زیادہ تر لوگ آخر میں اپنے سب سے اچھے اور سب سے برے نتیجے لکھ بیٹھتے ہیں۔
زندگی شطرنج جیسی کیوں نہیں
شطرنج میں کوئی مہرہ چھپا نہیں ہوتا اور قسمت کا دخل تقریباً نہیں ہوتا۔ ہار جائیں تو پیچھے جا کر وہ چال ڈھونڈ سکتے ہیں جہاں غلطی ہوئی۔ ڈیوک نے نفسیات میں ڈاکٹریٹ کی سطح تک پڑھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اصل زندگی کے زیادہ تر فیصلے شطرنج جیسے نہیں ہوتے۔ ان میں کچھ معلومات چھپی رہتی ہیں، اور قسمت اچھے بھلے فیصلے کا نتیجہ بھی بگاڑ سکتی ہے۔ کرکٹ کا کپتان پچ اور موسم دیکھ کر ٹاس جیتنے پر بیٹنگ چنتا ہے اور پھر بھی میچ ہار سکتا ہے۔
آپ ڈگری چنتے ہیں اور نہیں جانتے کہ چار سال بعد نوکریوں کی مارکیٹ کیسی ہوگی۔ چالیس منٹ کے انٹرویو کے بعد کسی کو نوکری پر رکھ لیتے ہیں۔ ڈیوک ایسے ہر فیصلے کو شرط (bet) کہتی ہیں۔ ان کی تعریف میں یہ بس ایسا فیصلہ ہے جو غیر یقینی مستقبل کے بارے میں ہو، جس میں آپ اپنا وقت یا پیسہ ایک راستے پر لگاتے ہیں اور باقی راستے چھوڑ دیتے ہیں۔
فیصلوں کو اس طرح دیکھنے کا عملی فائدہ ہے۔ آپ قدم اٹھانے سے پہلے پکے یقین کا انتظار نہیں کرتے۔ اور ہر برے نتیجے کو اپنی بے وقوفی کا ثبوت نہیں سمجھتے۔ وہ اس جملے کے حق میں بھی بولتی ہیں کہ مجھے پکا نہیں پتا۔ ان کے نزدیک یہ کمزوری نہیں، اس بات کا درست بیان ہے کہ آپ کتنا جانتے ہیں۔
یقین کو فیصد میں رکھنا
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کوئی بات سنتے ہیں، اسے جانچتے ہیں اور پھر طے کرتے ہیں کہ ماننی ہے یا نہیں۔ ڈیوک ایسی تحقیق کا حوالہ دیتی ہیں جس کے مطابق اصل ترتیب اکثر کچھ اور ہوتی ہے۔ ہم بات سنتے ہیں، مان لیتے ہیں، اور جانچنے کی نوبت کبھی کبھار بعد میں آتی ہے۔ ایک بار کوئی خیال دل میں بیٹھ جائے تو ہمیں وہی ثبوت نظر آتے ہیں جو اس کے حق میں ہوں۔ باقی کو ہم کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیتے ہیں۔ ذہین ہونا اس سے نہیں بچاتا۔ ذہین لوگ اکثر اپنی پہلے سے بنی رائے کے حق میں دلیلیں بنانے میں زیادہ ماہر ہوتے ہیں۔
ان کا حل یہ ہے کہ اپنی رائے کو پکی حقیقت کی طرح نہ کہیں، ساتھ بتائیں کہ آپ کو کتنا یقین ہے۔ مثلاً مجھے تقریباً 70 فیصد یقین ہے کہ کزن کا کاروبار والا آئیڈیا نہیں چلے گا۔ اس سے آپ خود پوچھتے ہیں کہ باقی 30 فیصد میں کیا ہو سکتا ہے۔ رائے بدلنا بھی کم تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ 70 سے 50 پر آنا صرف حساب ٹھیک کرنا ہے، ہار ماننا نہیں۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ جب کوئی ہمارے دعوے کو چیلنج کرے اور اس پر شرط لگانے کو کہے، تو ہم اچانک محتاط ہو جاتے ہیں کہ ہمیں کیا معلوم ہے اور کیسے معلوم ہے۔
ہنر اور قسمت کو ایمانداری سے الگ کرنا
تجربہ تبھی کچھ سکھاتا ہے جب آپ نتیجوں کو ایمانداری سے دو خانوں میں بانٹیں: کتنا اپنے ہنر سے ہوا اور کتنا قسمت سے۔ ڈیوک کہتی ہیں کہ ہم یہ تقسیم جانب داری سے کرتے ہیں۔ کام اچھا ہو جائے تو کریڈٹ اپنی قابلیت کو دیتے ہیں۔ برا ہو تو الزام قسمت پر ڈالتے ہیں۔ دوسروں کے معاملے میں ہم اس کا الٹ کرتے ہیں۔ جو طالب علم کلاس میں اول آئے، کہتا ہے کہ میں نے محنت کی تھی۔ نمبر کم آئیں تو کہتا ہے کہ پرچہ ہی غلط بنا تھا۔ اور ہم جماعت کے اچھے نمبر اس کے خیال میں اس لیے آئے کہ پرچہ چیک کرنے والا نرم تھا۔
یہ عادت ہماری انا کو بچاتی ہے اور سیکھنے کا راستہ بند کر دیتی ہے۔ جن غلطیوں کو سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے، وہ بری قسمت کے خانے میں چلی جاتی ہیں۔ ڈیوک کا جواب یہ ہے کہ اپنی ہر وضاحت کو بھی ایک اندازہ سمجھیں جو غلط ہو سکتا ہے۔ خود سے پوچھیں کہ مجھے کتنا یقین ہے کہ وجہ قسمت ہی تھی۔ اور اگر یہی نتیجہ کسی ایسے شخص کے ساتھ ہوتا جو مجھے پسند نہیں، تو میں کیا کہتا۔ وہ مانتی ہیں کہ یہ کرنا اچھا نہیں لگتا۔ ان کا مشورہ ہے کہ یہ بدل دیں کہ آپ فخر کس بات پر کرتے ہیں۔ خوشی اس میں ڈھونڈیں کہ آپ نے اپنی غلطی خود پکڑ لی، یا اپنے حریف کو اس کا جائز کریڈٹ دے دیا۔
چند لوگ جو آپ کو سچ بتائیں
ڈیوک کے خیال میں یہ عادتیں اکیلے نہیں نبھتیں، کیونکہ اپنی سوچ کی کمزوریاں کسی کو خود نظر نہیں آتیں۔ وہ ایک چھوٹے سے گروپ کا مشورہ دیتی ہیں، چاہے دو تین لوگ ہی ہوں، جو پہلے سے طے کر لیں کہ مقصد درست بات تک پہنچنا ہے، ایک دوسرے کو خوش رکھنا نہیں۔ گروپ کے اصول وہ ماہرِ سماجیات رابرٹ مرٹن (Robert Merton) سے لیتی ہیں، جنہوں نے یہ اصول سائنس کے لیے بتائے تھے۔ متعلقہ معلومات ساری بتائیں، وہ حصے بھی جن میں آپ برے نظر آتے ہیں۔ بات کو پرکھیں، یہ نہ دیکھیں کہ کس نے کہی۔ دیکھیں کہ کہیں کسی کا ذاتی مفاد تو بیچ میں نہیں۔ اور شک کرنے والے کو بولنے دیں۔
ایک عملی بات مشورہ مانگنے کے طریقے کے بارے میں ہے۔ اگر آپ دوست کو بتائیں کہ میں نے نوکری کی تھی اور تجربہ برا رہا، اور پھر پوچھیں کہ کیا یہ نوکری لینا ٹھیک تھا، تو جواب پر نتیجے کا اثر ہوگا۔ صورتِ حال ویسی بیان کریں جیسی اس وقت نظر آ رہی تھی اور انجام نہ بتائیں۔ ڈیوک یہ بھی خبردار کرتی ہیں کہ ہر کسی نے ایسی بات چیت کی حامی نہیں بھری ہوتی۔ جو رشتے دار اپنے مشکل دن کا دکھڑا سنا رہا ہے، اسے ہمدردی چاہیے۔ تجزیہ شروع کرنے سے پہلے پوچھ لیں۔
فیصلے میں اپنے آنے والے کل کو شامل کرنا
جو فیصلہ اسی لمحے ہوتا ہے، وہ آپ اسی حال میں کرتے ہیں جس میں اس وقت ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ تھکے ہوئے ہوں یا غصے میں ہوں۔ اس حالت کے لیے پوکر کھلاڑی ٹِلٹ (tilt) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ڈیوک کے طریقے فیصلے کے وقت آپ کو اپنا گزرا ہوا کل اور آنے والا کل بھی یاد دلا دیتے ہیں۔ ایک طریقہ مصنفہ سوزی ویلچ (Suzy Welch) سے لیا گیا ہے۔ پوچھیں کہ میں اس فیصلے کے بارے میں دس منٹ بعد کیسا محسوس کروں گا، دس مہینے بعد اور دس سال بعد۔ دوسرا طریقہ پہلے سے رکاوٹ کھڑی کر دینا ہے، جسے وہ یولیسس معاہدہ (Ulysses contract) کہتی ہیں۔ مثلاً آج رات ہی طے کر لینا کہ غصے والے میسج کا جواب اگلی صبح سے پہلے نہیں دوں گا۔
منصوبہ بندی کے لیے وہ دو مشقیں بتاتی ہیں۔ پہلی بیک کاسٹنگ (backcasting) ہے۔ اس میں آپ فرض کرتے ہیں کہ مقصد حاصل ہو گیا، اور پیچھے کی طرف چل کر دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔ دوسری پری مارٹم (premortem) ہے۔ اس میں آپ فرض کرتے ہیں کہ منصوبہ ناکام ہو گیا، اور وجہیں لکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ناکامی کا تصور کرنا دونوں میں زیادہ کام کا ہے، کیونکہ جس رکاوٹ کا نام پہلے لے لیا جائے اس کی تیاری ہو سکتی ہے۔
اس ہفتے آزمائیں
- پچھلے سال کے اپنے سب سے اچھے اور سب سے برے فیصلے لکھیں، پھر دیکھیں کہ آپ نے انہیں سوچ کے معیار پر چنا ہے یا نتیجے پر۔
- ایک ہفتہ کوئی بھی پکی رائے زبان پر لانے سے پہلے اس کے ساتھ اندازاً فیصد لگائیں، اور دیکھیں کون سی رائے 80 سے نیچے آتی ہے۔
- جو منصوبہ آپ کے لیے اہم ہے، اسے شروع کرنے سے پہلے دس منٹ اس کے ناکام ہونے کی وجہیں لکھیں، جیسے ناکامی ہو چکی ہو۔
- کسی بھروسے کے دوست سے اپنے کسی پرانے فیصلے پر رائے لیں، اور صورتِ حال بتاتے ہوئے یہ نہ بتائیں کہ انجام کیا ہوا۔
- جس موقعے پر آپ عموماً جذبات میں قدم اٹھا لیتے ہیں اس کے لیے پہلے سے ایک اصول بنائیں، مثلاً غصہ دلانے والے میسج کا جواب صبح تک نہیں دینا۔
ہماری بے لاگ رائے
اصل دلیل ایک لمبے مضمون میں آ سکتی تھی، اور کتاب اسے کئی بابوں میں دہراتی ہے۔ نفسیات کی زیادہ تر باتیں ڈینیئل کاہنمین (Daniel Kahneman) جیسے محققوں سے لی گئی ہیں اور ان کی اپنی کتابوں میں زیادہ تفصیل سے ملتی ہیں۔ مثالیں زیادہ تر پوکر اور امریکی کھیلوں سے آئی ہیں۔ جو ان سے واقف نہیں اسے یہ اجنبی لگ سکتی ہیں۔ روزمرہ کی رائے پر فیصد لگانا بھی اتنا آسان نہیں جتنا کتاب میں لگتا ہے۔ یہ عدد آخر اندازے ہی ہیں، اور ڈیوک یہ کم بتاتی ہیں کہ انہیں درست کیسے بنایا جائے۔
عام سوالات
کیا تھنکنگ اِن بیٹس پڑھنے کے قابل ہے؟
ہاں، اگر آپ پرانے فیصلوں پر خود کو کوستے رہتے ہیں یا ادھوری معلومات پر بڑے فیصلے کرنے ہیں۔ بس یہ جان لیں کہ اصل دلیل ایک لمبے مضمون میں آ سکتی تھی اور کتاب اسے کئی بابوں میں دہراتی ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
وہ لوگ جو پرانے فیصلوں کو بار بار ذہن میں دہراتے ہیں اور جو بھی ہوا اس کا الزام خود کو دیتے ہیں۔ یہ ان طالب علموں اور نئے نوکری پیشہ لوگوں کے لیے بھی کام کی ہے جنہیں ادھوری معلومات پر بڑے فیصلے کرنے ہیں، جیسے کون سی ڈگری لیں یا نوکری کی پیشکش قبول کریں یا نہیں۔
"What makes a decision great is not that it has a great outcome. A great decision is the result of a good process."
— Annie Duke, Thinking in Bets
یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔
ایپ حاصل کریں