تعارف
رابرٹ کیوساکی (Robert T. Kiyosaki) کی کتاب رچ ڈیڈ پور ڈیڈ (Rich Dad Poor Dad) پیسے کے بارے میں دو سوچوں کا موازنہ ہے۔ ایک سوچ ان کے اپنے پڑھے لکھے والد کی ہے جو محفوظ نوکری پر یقین رکھتے تھے۔ دوسری ان کے دوست کے والد کی ہے جو کاروبار کرتے تھے۔ کتاب کا مرکزی سبق یہ ہے کہ تنخواہ بڑھانے سے زیادہ ضروری یہ سمجھنا ہے کہ پیسہ کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے، اور ایسی چیزیں خریدنا جو آمدنی دیں۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے
نوجوان کمانے والے اور طالب علم جنہیں گھر یا اسکول میں پیسے کے بارے میں کچھ نہیں سکھایا گیا اور جو اس پر سوچنا شروع کرنا چاہتے ہیں۔ جو پہلے سے سرمایہ کاری کرتے ہیں انہیں اس میں زیادہ نیا کچھ نہیں ملے گا۔
دو باپ، پیسے کے دو نظریے
کیوساکی کتاب کو دو آدمیوں کے موازنے کے طور پر پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہوائی (Hawaii) میں ان کی پرورش کی۔ ان کے اپنے والد، جنہیں وہ غریب باپ کہتے ہیں، بہت پڑھے لکھے تھے اور محکمہ تعلیم میں بڑے عہدے پر تھے۔ پھر بھی ساری عمر بلوں سے پریشان رہے۔ امیر باپ ان کے دوست مائیک کے والد تھے۔ انہوں نے اسکول جلدی چھوڑ دیا تھا اور کاروبار کھڑے کیے۔
دونوں کے مشورے الٹ تھے۔ ایک کہتا تھا محنت سے پڑھو تاکہ اچھی کمپنی میں پکی نوکری ملے۔ دوسرا کہتا تھا محنت سے پڑھو تاکہ اچھی کمپنی خرید سکو۔ ایک کہتا تھا یہ میری پہنچ سے باہر ہے، اور بات وہیں ختم ہو جاتی تھی۔ دوسرا پوچھتا تھا کہ میں اسے کیسے خرید سکتا ہوں، اور اس سے دماغ کام کرنے لگتا تھا۔
کیوساکی کا دعویٰ ہے کہ لوگوں کے غریب رہنے یا امیر بننے کا بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے گھر میں پیسے کے بارے میں کیا سیکھا، کیونکہ اسکول اس بارے میں تقریباً کچھ نہیں سکھاتا۔ کتاب ان سبقوں کی صورت میں ہے جو ان کے بقول انہیں نو سال کی عمر سے امیر باپ سے ملے۔
پیسے کے لیے کام اور اس کے پیچھے کا ڈر
پہلا سبق یہ ہے کہ امیر لوگ پیسے کے لیے کام نہیں کرتے۔ بچپن میں کیوساکی اور مائیک نے امیر باپ کی ایک چھوٹی دکان پر بہت کم اجرت پر کام شروع کیا۔ کیوساکی نے شکایت کی تو امیر باپ نے اجرت بالکل ختم کر دی۔ مقصد یہ تھا کہ لڑکے وہ محسوس کریں جو زیادہ تر بڑے محسوس کرتے ہیں، اور دیکھا جائے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔
ان کی وضاحت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کی کام کی زندگی دو جذبے چلاتے ہیں۔ پیسہ نہ ہونے کا ڈر انہیں نوکری قبول کرواتا ہے۔ پھر تنخواہ آتی ہے تو خواہش جاگتی ہے، خرچ بڑھتا ہے اور ڈر لوٹ آتا ہے۔ اسے وہ چوہوں کی دوڑ (rat race) کہتے ہیں۔
مفت کام کرنا پڑا تو لڑکوں نے موقع ڈھونڈنا شروع کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ دکان پر نہ بکنے والی کامک کتابیں پھینک دی جاتی ہیں۔ انہوں نے وہ جمع کیں اور پڑھنے کا ایک چھوٹا کمرہ کھول لیا جہاں دوسرے بچے فیس دے کر پڑھتے تھے۔ یہ ان دونوں کی موجودگی کے بغیر پیسہ کماتا تھا۔ کیوساکی اسے اثاثے کا اپنا پہلا تجربہ کہتے ہیں۔
اثاثہ اور بوجھ
کتاب کا مرکزی خیال بہت مختصر ہے۔ اثاثہ (asset) آپ کی جیب میں پیسہ ڈالتا ہے۔ بوجھ، یعنی لائبلٹی (liability)، آپ کی جیب سے پیسہ نکالتا ہے۔ کیوساکی کہتے ہیں کہ امیر اثاثے خریدتے ہیں۔ غریب اور مڈل کلاس لوگ بوجھ خریدتے ہیں اور انہیں اثاثہ سمجھتے ہیں۔
جس مثال پر سب سے زیادہ بحث ہوئی ہے وہ اپنا گھر ہے۔ زیادہ تر لوگ گھر کو اپنا سب سے بڑا اثاثہ کہتے ہیں۔ ان کی تعریف کے مطابق جس گھر میں آپ خود رہتے ہیں وہ بوجھ ہے۔ وہ ہر مہینے قسط، مرمت اور ٹیکس کی صورت میں پیسہ لے جاتا ہے اور لاتا کچھ نہیں۔
وہ آمدنی کے حساب اور بیلنس شیٹ کے سادہ خاکے بنا کر یہ دکھاتے ہیں۔ مڈل کلاس گھرانے میں تنخواہ آتی ہے اور سیدھی خرچوں اور قسطوں میں چلی جاتی ہے۔ آمدنی بڑھے تو بڑا گھر یا نئی گاڑی آ جاتی ہے اور قسطیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ امیر گھرانے میں اثاثوں سے آنے والی آمدنی خرچے اٹھاتی ہے۔
اپنے اثاثوں پر توجہ
کیوساکی آپ کے پیشے اور آپ کے بزنس میں فرق کرتے ہیں۔ پیشہ وہ نوکری ہے جس سے تنخواہ ملتی ہے۔ بزنس آپ کے اثاثوں کا خانہ ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ نوکری جاری رکھیں اور جو بچ سکے اس سے اثاثے خریدتے رہیں۔
وہ اثاثوں کی قسمیں گنواتے ہیں: ایسے کاروبار جن میں آپ کی موجودگی ضروری نہ ہو، شیئرز، بانڈز، کرائے والی جائیداد، کتاب یا موسیقی جیسی چیزوں کی رائلٹی، اور ہر وہ چیز جو آمدنی دے یا جس کی قیمت بڑھے اور جو آسانی سے بک سکے۔
آسائشیں سب سے آخر میں آتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی قیمت اثاثوں کی آمدنی سے دی جائے، تنخواہ یا قرض سے نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے اپنے آپ کو دیں (pay yourself first)۔ یعنی مہینے کے شروع میں، بلوں سے پہلے، پیسہ اثاثوں کے خانے میں جائے۔ جس کی پہلی تنخواہ ہو اس کے لیے اس کی عملی شکل سادہ ہے۔ ایک رقم طے کریں، چاہے چھوٹی ہو۔ تنخواہ آنے کے دن اسے الگ کر دیں اور اسے خرچ کے پیسوں میں نہ گنیں۔
وہ ہنر جو کمائی بڑھاتے ہیں
کیوساکی کے مطابق مالی سمجھ (financial intelligence) چار طرح کے علم سے بنتی ہے۔ حساب، جس سے ان کی مراد اعداد پڑھنا ہے۔ سرمایہ کاری۔ مارکیٹ کی سمجھ۔ اور قانون، خاص طور پر ٹیکس اور کمپنی کا قانون۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکا میں کاروبار کے مالک کمپنی کے ذریعے بہت سے خرچے ٹیکس سے پہلے کر لیتے ہیں، جبکہ ملازم پہلے ٹیکس دیتا ہے اور پھر خرچ کرتا ہے۔
کیریئر کے بارے میں ان کا مشورہ ہے کہ سیکھنے کے لیے کام کریں اور کمائی کو دوسرے نمبر پر رکھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے زیروکس (Xerox) میں سیلز کی نوکری اس لیے کی کہ وہ شرمیلے تھے اور انکار سے ڈرتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ بیچنے کا ہنر ہی ان میں سب سے کم ہے۔ وہ نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ نوکری یہ دیکھ کر چنیں کہ وہ کیا سکھائے گی۔
وہ ایک باصلاحیت لکھنے والی خاتون کا قصہ سناتے ہیں جنہیں انہوں نے سیلز کا کورس کرنے کا مشورہ دیا تو وہ برا مان گئیں۔ ان کی رائے میں بہت سے ہنرمند لوگ کم کماتے ہیں کیونکہ ان میں ایک ہنر کی کمی ہوتی ہے، عموماً اپنا کام بیچنے یا سمجھانے کی۔ اچھا درزی یا پروگرامر جو گاہک کو اپنے کام کی قدر نہ سمجھا سکے، یہ مسئلہ پہچان لے گا۔
لوگ رک کیوں جاتے ہیں
کتاب کے آخر میں کیوساکی وہ وجوہات گنواتے ہیں جن کی بنا پر پیسے کی سمجھ رکھنے والے لوگ بھی اثاثے نہیں بناتے۔ بڑی وجوہات ہیں پیسہ ڈوبنے کا ڈر، بدگمانی، سستی، بری عادتیں اور غرور۔
ڈر کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ نقصان کسی کو پسند نہیں۔ فرق اس میں ہے کہ انسان نقصان کو کیسے سنبھالتا ہے۔ جو صرف بچاؤ کی سوچتے ہیں وہ نقصان سے بچ جاتے ہیں اور فائدے سے بھی۔ بدگمانی کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ اپنے شک یا دوستوں اور رشتہ داروں کے شک منصوبے کو آزمانے سے پہلے ہی روک دیتے ہیں۔ مصروفیت کو وہ سستی کی ایک شکل مانتے ہیں، کیونکہ مصروف رہنا اس مسئلے سے بچنے کا عام طریقہ ہے جس کا آپ سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ غرور ان کے نزدیک انا اور لاعلمی کا ملاپ ہے، یعنی نہ جانتے ہوئے جاننے کا دکھاوا۔
ان کے حل عام سے ہیں۔ ایک مضبوط وجہ ڈھونڈیں، دوست سوچ سمجھ کر چنیں، سیکھتے رہیں اور اچھے مشورے کی قیمت دیں۔ پیسہ کہاں لگانا ہے، یہ تفصیل تقریباً پوری طرح قاری پر چھوڑ دی گئی ہے۔ کتاب شروع کرنے سے پہلے یہ جان لینا اچھا ہے۔
اس ہفتے آزمائیں
- پچھلے مہینے میں آنے اور جانے والا ہر روپیہ دو کالموں میں لکھیں۔
- جو کچھ آپ کے پاس ہے اور جو آپ نے دینا ہے اس کی فہرست بنائیں اور ایمانداری سے نشان لگائیں کہ کون سی چیز پیسہ لاتی ہے اور کون سی لے جاتی ہے۔
- ایک چھوٹی رقم طے کریں جو تنخواہ یا جیب خرچ ملنے کے دن، کسی بھی خرچ سے پہلے، الگ کر دی جائے۔
- ایک ہنر چنیں جس میں آپ کمزور ہیں، جیسے بیچنا یا بولنا، اور اسے سیکھنے کے لیے کوئی مفت کورس یا کوئی شخص ڈھونڈیں۔
- سرمایہ کاری کے کسی بھی خیال پر عمل سے پہلے اس کے بارے میں کسی ایسے ذریعے سے پڑھیں جو آپ کو کچھ بیچ نہ رہا ہو۔
ہماری بے لاگ رائے
کتاب سوچ بدلنے میں اچھی ہے اور طریقہ بتانے میں کمزور۔ یہ کہیں بھی عملی تفصیل سے نہیں بتاتی کہ سرمایہ کاری کیسے چنی جائے۔ اس کے کچھ مشورے، جیسے قرض لے کر جائیداد خریدنا، نئے آدمی کو تباہ کر سکتے ہیں۔ امیر باپ واقعی کوئی حقیقی شخص تھے یا نہیں، یہ کبھی ثابت نہیں ہوا اور کیوساکی پوچھنے پر گول مول جواب دیتے رہے ہیں۔ ٹیکس اور جائیداد کی مثالیں 1990 کی دہائی کے امریکا کی ہیں اور پاکستان پر لاگو نہیں ہوتیں۔ تعلیم اور پکی نوکری کو کم تر کہنا ان بہت سے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جن کے لیے یہ راستہ اچھا چلتا ہے۔
عام سوالات
کیا رچ ڈیڈ پور ڈیڈ پڑھنے کے قابل ہے؟
ہاں، اگر آپ نوجوان ہیں، گھر یا اسکول میں پیسے کے بارے میں کچھ نہیں سیکھا اور اس پر سوچنے کے لیے پہلا دھکا چاہتے ہیں؛ کتاب سوچ بدلنے میں اچھی ہے۔ مگر یہ طریقہ بتانے میں کمزور ہے، اس کی مثالیں امریکا کی ہیں، اور جو پہلے سے سرمایہ کاری کرتے ہیں انہیں اس میں زیادہ نیا کچھ نہیں ملے گا۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
نوجوان کمانے والے اور طالب علم جنہیں گھر یا اسکول میں پیسے کے بارے میں کچھ نہیں سکھایا گیا اور جو اس پر سوچنا شروع کرنا چاہتے ہیں۔ جو پہلے سے سرمایہ کاری کرتے ہیں انہیں اس میں زیادہ نیا کچھ نہیں ملے گا۔
"The poor and the middle class work for money. The rich have money work for them."
— Robert T. Kiyosaki, Rich Dad Poor Dad
یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔
ایپ حاصل کریں