Psychology

تھنکنگ، فاسٹ اینڈ سلو

یہ خلاصہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ Read this summary in English →

تعارف

ڈینیئل کاہنمین (Daniel Kahneman) ماہرِ نفسیات ہیں جنہیں معاشیات کا نوبیل انعام ملا۔ تھنکنگ، فاسٹ اینڈ سلو (Thinking, Fast and Slow) میں وہ بتاتے ہیں کہ ہمارا ذہن دو طریقوں سے کام کرتا ہے۔ ایک طریقہ تیز ہے اور خود بخود چلتا ہے۔ دوسرا آہستہ ہے اور محنت مانگتا ہے۔ کتاب دکھاتی ہے کہ تیز سوچ کہاں کہاں دھوکا دیتی ہے، ہم پیسے اور منصوبوں کے فیصلوں میں ایک جیسی غلطیاں کیوں دہراتے ہیں، اور ان سے بچنے کی کتنی گنجائش ہے۔ کتاب لمبی ہے اور توجہ مانگتی ہے۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے

وہ قاری جو سمجھنا چاہتے ہیں کہ سمجھدار لوگ بھی پیسے، منصوبوں اور پہلی رائے کے معاملے میں بار بار ایک جیسی غلطیاں کیوں کرتے ہیں۔ کتاب لمبی اور مشکل ہے، اس لیے صبر سے پڑھنے والوں کے لیے بہتر ہے۔

ذہن کے دو نظام

کاہنمین سوچ کو دو کرداروں کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ سسٹم 1 (System 1) تیز ہے اور خود بخود چلتا ہے۔ یہ چہرے کا تاثر پڑھ لیتا ہے اور دو جمع دو کا جواب بغیر محنت کے دے دیتا ہے۔ سسٹم 2 (System 2) آہستہ ہے اور سوچ سمجھ کر چلتا ہے۔ 17 کو 24 سے ضرب دینی ہو یا تنگ جگہ میں گاڑی کھڑی کرنی ہو تو یہی کام آتا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ دماغ کے دو حصے نہیں ہیں۔ یہ دو طرح کے ذہنی کام کو سمجھانے کا آسان طریقہ ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ سسٹم 2 کاہل ہے۔ سسٹم 1 جو کہہ دے وہ مان لیتا ہے، جب تک کوئی چیز اسے جانچنے پر مجبور نہ کرے۔ کتاب کی مشہور پہیلی یہ ہے۔ ایک بلے اور ایک گیند کی کل قیمت 1.10 ہے۔ بلے کی قیمت گیند سے ٹھیک 1.00 زیادہ ہے۔ اکثر لوگ فوراً کہتے ہیں کہ گیند 10 سینٹ کی ہے۔ صحیح جواب 5 سینٹ ہے۔ چند سیکنڈ حساب لگانے سے پتا چل جاتا ہے، مگر یونیورسٹیوں کے بہت سے ذہین طالب علم بھی غلط جواب دیتے ہیں۔

شارٹ کٹ جو غلط راستے پر ڈالتے ہیں

سسٹم 1 مشکل سوال کو چپکے سے آسان سوال سے بدل دیتا ہے۔ پوچھا جائے کہ کوئی چیز کتنی عام ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی مثالیں کتنی آسانی سے یاد آتی ہیں۔ کاہنمین اور ان کے تحقیقی ساتھی ایموس ٹورسکی (Amos Tversky) نے اسے دستیابی کا شارٹ کٹ (availability heuristic) کہا۔ ہفتہ بھر جہاز کے حادثے کی خبریں چلیں تو ہوائی سفر خطرناک لگنے لگتا ہے، حالانکہ اصل خطرہ ذرا نہیں بدلا۔

دوسرا شارٹ کٹ اینکرنگ (anchoring) ہے۔ جو عدد آپ نے ابھی دیکھا ہو وہ آپ کے اندازے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، چاہے وہ عدد بے معنی ہو۔ ایک تجربے میں لوگوں کے سامنے نمبروں والا ایک پہیہ گھمایا گیا جو پہلے سے طے شدہ چھوٹے یا بڑے عدد پر رکتا تھا۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ اقوامِ متحدہ میں افریقی ملکوں کا تناسب کتنے فیصد ہے۔ جنہوں نے بڑا عدد دیکھا تھا ان کے اندازے واضح طور پر زیادہ تھے۔ جو دکاندار پہلے اونچی قیمت بتاتا ہے وہ آپ پر یہی اثر ڈال رہا ہے۔

ان دونوں کے پیچھے ایک عادت ہے جسے کاہنمین مختصراً WYSIATI کہتے ہیں، یعنی جو سامنے ہے بس وہی سب کچھ ہے۔ ذہن سامنے موجود معلومات سے کہانی بنا لیتا ہے اور یہ نہیں پوچھتا کہ کیا کچھ رہ گیا ہے۔

منصوبے دیر سے کیوں پورے ہوتے ہیں

کاہنمین کہتے ہیں کہ اعتماد ایک احساس ہے، پیمائش نہیں۔ ہمیں یقین تب محسوس ہوتا ہے جب ذہن میں بنی کہانی ٹھیک بیٹھ رہی ہو۔ اس کا اس بات سے زیادہ تعلق نہیں ہوتا کہ ثبوت کتنا ہے۔

وہ اپنا ہی قصہ سناتے ہیں۔ وہ ایک ایسی ٹیم کے سربراہ تھے جو اسکول کا نصاب لکھ رہی تھی۔ ٹیم کا اندازہ تھا کہ کام تقریباً دو سال میں ہو جائے گا۔ پھر انہوں نے ایک تجربہ کار ساتھی سے پوچھا کہ ایسی دوسری ٹیموں کا کیا حال رہا۔ جواب ملا کہ بہت سی ٹیمیں کام مکمل ہی نہیں کر سکیں اور جنہوں نے کیا انہیں کہیں زیادہ وقت لگا۔ ٹیم پھر بھی لگی رہی اور کام آٹھ سال میں پورا ہوا۔ اسے وہ منصوبہ بندی کا مغالطہ (planning fallacy) کہتے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ معاملے کو باہر سے دیکھا جائے (outside view)۔ اپنے منصوبے پر بھروسا کرنے سے پہلے معلوم کریں کہ دوسروں کو ایسے کام میں کتنا وقت لگا۔

ماہرین کے اندازے کے بارے میں وہ محتاط ہیں مگر اسے رد نہیں کرتے۔ جہاں کام میں باقاعدہ پیٹرن ہوں اور ماہر کو برسوں تک فوری اور صاف نتیجہ ملتا رہا ہو، جیسے شطرنج کے کھلاڑی یا آگ بجھانے والے، وہاں اندازے پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ سیاست یا شیئرز کی قیمتوں کی لمبی پیش گوئیوں میں ماہر کے اعتماد سے یہ پتا نہیں چلتا کہ اس کی بات کتنی درست ہے۔

نقصان کا دکھ فائدے کی خوشی سے بڑا ہے

کاہنمین کو نوبیل انعام جس کام پر ملا وہ پراسپیکٹ تھیوری (prospect theory) ہے جو انہوں نے ٹورسکی کے ساتھ بنائی۔ پرانی معاشیات مانتی تھی کہ لوگ فیصلہ یہ دیکھ کر کرتے ہیں کہ آخر میں کل دولت کتنی ہوگی۔ یہ تھیوری کہتی ہے کہ ہم فائدہ اور نقصان کسی ایک نقطے (reference point) کے مقابلے میں ناپتے ہیں، اور وہ نقطہ عموماً ہماری موجودہ حالت ہوتی ہے۔ اور نقصان کا دکھ برابر کے فائدے کی خوشی سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسے نقصان سے گریز (loss aversion) کہتے ہیں۔ ان کے بیان کردہ تجربات میں لوگ نقصان کا خطرہ عام طور پر تبھی مول لیتے تھے جب ممکنہ فائدہ تقریباً دگنا ہو۔ جیب سے ہزار روپے گر جانے کا دکھ سڑک پر ہزار روپے مل جانے کی خوشی سے زیادہ ہوتا ہے۔

اس سے کچھ عجیب رویے سمجھ آتے ہیں۔ لوگ گرتے ہوئے شیئر کو پکڑے رہتے ہیں کیونکہ بیچنے سے نقصان پکا ہو جائے گا۔ جو چیز اپنی ہو جائے اس کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ اسے وہ ملکیت کا اثر (endowment effect) کہتے ہیں۔

بات کہنے کا انداز بھی فیصلہ بدل دیتا ہے۔ ایک علاج کے بارے میں کہا جائے کہ اس میں بچنے کی شرح 90 فیصد ہے تو لوگ اسے زیادہ چنتے ہیں۔ اسی علاج کے بارے میں کہا جائے کہ موت کی شرح 10 فیصد ہے تو کم چنتے ہیں۔ حقیقت ایک ہی ہے۔ صرف فریم (frame) بدلا ہے اور سسٹم 1 فریم پر ردِعمل دیتا ہے۔

جینے والی ذات اور یاد رکھنے والی ذات

کتاب کے آخری حصے میں کاہنمین دو ذاتیں الگ کرتے ہیں۔ تجربہ کرنے والی ذات (experiencing self) ہر لمحہ جیتی ہے۔ یاد رکھنے والی ذات (remembering self) بعد میں کہانی سنبھالتی ہے اور فیصلے بھی وہی کرتی ہے۔ دونوں میں اکثر اختلاف ہوتا ہے۔

یادداشت سارے لمحے جمع نہیں کرتی۔ وہ سب سے شدید لمحہ اور آخری حصہ رکھ لیتی ہے اور اس بات کو تقریباً نظرانداز کر دیتی ہے کہ تجربہ کتنی دیر چلا۔ اسے وہ عروج اور اختتام کا اصول (peak-end rule) کہتے ہیں۔ تکلیف دہ طبی معائنوں پر تحقیق میں مریضوں کی بعد کی رائے بدترین لمحے اور آخری لمحوں کے مطابق تھی، تکلیف کے کل وقت کے مطابق نہیں۔ جو معائنہ لمبا تھا مگر نرمی سے ختم ہوا، وہ اس چھوٹے معائنے سے کم برا یاد رہا جو سخت تکلیف پر ختم ہوا۔

عام زندگی میں بھی یہی ہوتا ہے۔ خاندان کے ساتھ اچھا سفر ہو اور آخری شام تلخ جھگڑا ہو جائے تو پورا سفر برا یاد رہتا ہے۔

اس کا کیا کیا جائے

کاہنمین صاف مانتے ہیں کہ ان غلطیوں کو جان لینے سے وہ خود ان سے آزاد نہیں ہوئے۔ سسٹم 1 بند نہیں کیا جا سکتا اور ہر وقت خود پر شک کرنا تھکا دیتا ہے۔ ان کی عملی امید بس اتنی ہے کہ آپ وہ موقعے پہچاننا سیکھ لیں جہاں غلطی کا امکان زیادہ ہو، اور جب معاملہ بڑا ہو تو رفتار کم کر لیں۔

ان کے خیال میں ادارے یہ کام فرد سے بہتر کر سکتے ہیں کیونکہ وہ طریقہ کار بنا سکتے ہیں۔ ایک طریقہ پری مارٹم (premortem) ہے جو ماہرِ نفسیات گیری کلائن (Gary Klein) کا خیال ہے۔ بڑا فیصلہ پکا ہونے سے پہلے ٹیم فرض کرتی ہے کہ ایک سال گزر چکا ہے اور منصوبہ بری طرح ناکام ہوا ہے۔ پھر ہر شخص لکھتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس طرح وہ شک بھی سامنے آ جاتے ہیں جو لوگ عام طور پر دل میں رکھتے ہیں۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دوسرے کی غلطی پکڑنا اپنی غلطی پکڑنے سے بہت آسان ہے۔ بڑی خریداری یا نوکری بدلنے سے پہلے کسی صاف گو دوست سے رائے لینا اسی بات سے فائدہ اٹھانے کا اچھا طریقہ ہے۔

اس ہفتے آزمائیں

  1. اگلا منصوبہ بنانے سے پہلے دو ایسے لوگوں سے، جو ویسا کام کر چکے ہوں، پوچھیں کہ انہیں اصل میں کتنا وقت لگا۔
  2. دکاندار پہلے قیمت بتائے تو جواب دینے سے پہلے اپنی مناسب قیمت کاغذ پر طے کر لیں۔
  3. اس ہفتے کسی ایک بڑے فیصلے سے پہلے لکھیں کہ یہ کن وجوہات سے ناکام ہو سکتا ہے۔
  4. جب کسی بات پر بہت یقین ہو تو لکھیں کہ آپ کے پاس اصل ثبوت کیا ہے اور کیا معلوم نہیں۔
  5. کسی ایک فیصلے کو الٹے انداز میں بیان کریں، مثلاً پاس ہونے کے امکان کی جگہ فیل ہونے کا امکان، اور دیکھیں کہ احساس بدلتا ہے یا نہیں۔

ہماری بے لاگ رائے

کتاب کی کچھ تحقیق وقت کے ساتھ کمزور ثابت ہوئی ہے۔ پرائمنگ (priming) والا باب چھوٹے تجربات پر کھڑا ہے جو دوبارہ کرنے پر وہی نتیجہ نہیں دے سکے۔ کاہنمین نے خود کھلے عام مانا کہ انہوں نے ان پر ضرورت سے زیادہ بھروسا کیا۔ یہ خیال بھی کہ قوتِ ارادی بیٹری کی طرح ختم ہوتی ہے، اسی مشکل کا شکار ہے۔ شارٹ کٹ اور پراسپیکٹ تھیوری والا کام زیادہ مضبوط ہے، اگرچہ نقصان سے گریز کی اصل مقدار پر بحث جاری ہے۔ کتاب لمبی اور بھاری ہے اور بہت سے لوگ آدھی پڑھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔

عام سوالات

کیا تھنکنگ، فاسٹ اینڈ سلو پڑھنے کے قابل ہے؟

ہاں، اگر آپ صبر سے پڑھنے والے ہیں اور سمجھنا چاہتے ہیں کہ سمجھدار لوگ پیسے اور منصوبوں میں ایک جیسی غلطیاں کیوں دہراتے ہیں۔ کتاب کی کچھ تحقیق، خاص طور پر پرائمنگ والا باب، کمزور ثابت ہوئی ہے، مگر شارٹ کٹ اور پراسپیکٹ تھیوری والا بنیادی کام زیادہ مضبوط ہے۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے؟

وہ قاری جو سمجھنا چاہتے ہیں کہ سمجھدار لوگ بھی پیسے، منصوبوں اور پہلی رائے کے معاملے میں بار بار ایک جیسی غلطیاں کیوں کرتے ہیں۔ کتاب لمبی اور مشکل ہے، اس لیے صبر سے پڑھنے والوں کے لیے بہتر ہے۔

"Nothing in life is as important as you think it is, while you are thinking about it."

— Daniel Kahneman, Thinking, Fast and Slow

یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔

ایپ حاصل کریں
Read summaries offline in the free app MyByteNest for Android: 268 book summaries, 50 of them in depth, some in Urdu. No sign-up and no subscription.
Get it on Google Play