تعارف
نپولین ہل (Napoleon Hill) کی کتاب تھنک اینڈ گرو رچ (Think and Grow Rich) 1937 میں چھپی اور کامیابی پر لکھی گئی بعد کی بہت سی کتابوں پر اس کا اثر ہے۔ ہل تیرہ اصول بیان کرتے ہیں جو ان کے بقول امیر لوگوں کے مطالعے سے نکلے۔ ان میں واضح مقصد، یقین، منصوبہ بندی، جلد فیصلہ اور ثابت قدمی شامل ہیں۔ کچھ مشورے آج بھی کام کے ہیں اور کچھ دعوے ایسے ہیں جنہیں سائنس نہیں مانتی، اس لیے اسے کچھ شک کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے
وہ قاری جو اس کتاب کو جاننا چاہتے ہیں جس نے کامیابی کی بعد کی بہت سی تحریروں کو شکل دی، اور وہ لوگ جن میں صلاحیت ہے مگر کوئی طے شدہ مقصد نہیں۔ اسے صرف مشورہ نہیں، اپنے دور کی ایک تاریخی تحریر سمجھ کر شک کی نظر سے پڑھیں۔
کساد بازاری کے دور کی کتاب
یہ کتاب 1937 میں چھپی جب امریکا ابھی عظیم کساد بازاری (Great Depression) سے نکل رہا تھا۔ ہل کہتے ہیں کہ فولاد کے بڑے صنعت کار اینڈریو کارنیگی (Andrew Carnegie) نے برسوں پہلے انہیں یہ کام دیا تھا کہ وہ دیکھیں امیر لوگ کیسے کامیاب ہوئے۔ ان کے بقول انہوں نے سیکڑوں لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا۔ اس سے وہ تیرہ اصول نکالتے ہیں جو خواہش سے شروع ہوتے ہیں اور اس چیز پر ختم ہوتے ہیں جسے وہ چھٹی حس کہتے ہیں۔
کتاب کا بڑا دعویٰ اس کے نام میں ہے۔ ہل کا ماننا ہے کہ دولت سب سے پہلے ذہن کی ایک کیفیت کی صورت میں جنم لیتی ہے۔ جس شخص کا مقصد واضح ہو، جسے یقین ہو کہ وہ پورا ہو سکتا ہے اور جو اس پر عمل کرتا رہے، وہ ان کے بقول راستہ نکال لیتا ہے۔
شروع کرنے سے پہلے جان لیں کہ یہ کس قسم کی کتاب ہے۔ یہ 1930 کی دہائی کی حوصلہ بڑھانے والی تحریر ہے جو ان لوگوں کے لیے لکھی گئی جن کی نوکریاں اور بچت جا چکی تھی۔ کچھ بابوں میں مقصد اور ثابت قدمی پر سمجھداری کی باتیں ہیں۔ کچھ میں ذہن کے بارے میں ایسے دعوے ہیں جنہیں آج کوئی سائنس دان نہیں مانے گا۔
ایک واضح مقصد
ہل کے نزدیک سب کچھ خواہش سے شروع ہوتا ہے، اور ان کی مراد محض تمنا نہیں، اس سے کہیں زیادہ پکی چیز ہے۔ وہ چھ قدم بتاتے ہیں۔ طے کریں کہ آپ کو ٹھیک کتنی رقم چاہیے۔ طے کریں کہ بدلے میں آپ کیا دیں گے۔ تاریخ مقرر کریں۔ منصوبہ بنائیں اور فوراً شروع کر دیں، تیار ہوں یا نہ ہوں۔ یہ سب ایک صاف بیان کی صورت میں لکھ لیں۔ اس بیان کو دن میں دو بار اونچی آواز میں پڑھیں۔
پیسے کی بات الگ رکھیں تو یہ مقصد طے کرنے کا عام طریقہ ہے۔ جو طالب علم کہتا ہے کہ مجھے اچھے نمبر چاہئیں اس کے پاس صرف تمنا ہے۔ جو لکھتا ہے کہ مارچ کے امتحان میں اسّی فیصد سے اوپر لوں گا اور اس کے لیے روز شام کو دو گھنٹے موبائل چھوڑوں گا، اس کے پاس ایسی چیز ہے جس پر عمل ہو سکتا ہے۔
ہل کا پسندیدہ قصہ ایڈون بارنس (Edwin Barnes) کا ہے۔ وہ خالی جیب تھامس ایڈیسن (Thomas Edison) کے دفتر پہنچے اور ان کا پکا ارادہ تھا کہ ایڈیسن کے کاروباری ساتھی بنیں گے۔ انہوں نے چھوٹی نوکری قبول کی اور برسوں انتظار کیا۔ موقع تب ملا جب انہوں نے ایک ایسی مشین بیچنے کی پیشکش کی جس پر دوسروں کو کم بھروسا تھا۔
یقین اور دہرانا
دوسرا اور تیسرا اصول یقین اور خود کو تلقین (autosuggestion) ہیں۔ یقین سے ہل کی مراد یہ اعتماد ہے کہ آپ اپنا مقصد حاصل کر لیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اعتماد جان بوجھ کر بنایا جا سکتا ہے، اپنے لاشعور (subconscious mind) کو بار بار ہدایت دے کر۔ طریقہ یہ ہے کہ اپنا لکھا ہوا بیان روز اونچی آواز میں پڑھیں۔ پڑھتے ہوئے تصور کریں کہ مطلوبہ چیز آپ کے ہاتھ میں ہے اور وہ جذبہ بھی محسوس کریں جو اس وقت ہوگا۔ ان کے مطابق جذبے کے بغیر دہرائے گئے الفاظ کچھ نہیں کرتے۔
اس خیال کی ایک معقول شکل موجود ہے۔ جو لوگ ناکامی کی توقع رکھتے ہیں وہ اکثر جلدی کوشش چھوڑ دیتے ہیں۔ جب دوسری چیزیں توجہ کھینچ رہی ہوں تو مقصد کو روز دہرانا اسے سامنے رکھتا ہے۔ جو کرکٹر میچ سے پہلے اپنے شاٹ ذہن میں دیکھتا ہے وہ کچھ ایسا ہی کر رہا ہے۔ ہل اس سے بہت آگے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جذبے سے بھرے خیالات ویسے ہی نتیجے سوچنے والے کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔ مثبت سوچ پر بعد کی بہت سی تحریروں کی جڑ یہی دعویٰ ہے، اور اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔
علم، تخیل اور منصوبہ
ہل عام علم اور خاص علم (specialized knowledge) میں فرق کرتے ہیں۔ عام علم کتنا ہی وسیع ہو، اکیلے اس سے کمائی کم ہوتی ہے۔ کمائی اس علم سے ہوتی ہے جو منظم ہو اور کسی واضح مقصد پر لگایا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سارا علم آپ کے اپنے سر میں ہونا ضروری نہیں۔ وہ ہنری فورڈ (Henry Ford) کا قصہ سناتے ہیں۔ لوگوں نے انہیں جاہل کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں ایک بٹن دبا کر ایسے آدمی بلا سکتا ہوں جو میری ضرورت کی ہر بات جانتے ہیں۔
منصوبے تخیل میں بنتے ہیں۔ ہل کے مطابق ہر دولت کا آغاز کسی خیال سے ہوتا ہے، اور بہت سے خیال پرانے خیالات کی نئی ترتیب ہوتے ہیں۔
پھر منظم منصوبہ بندی آتی ہے۔ مدد کے لیے لوگوں کا ایک گروپ بنائیں، طے کریں کہ ہر ایک کو بدلے میں کیا ملے گا، باقاعدگی سے ملیں اور منصوبہ ناکام ہو تو اسے نئے سرے سے بنائیں۔ ان کا اصرار ہے کہ منصوبے کی ناکامی بتاتی ہے کہ منصوبہ کمزور تھا۔ یہ آخری شکست نہیں۔ اس لمبے باب میں نوکری کی درخواست اور قیادت پر سیدھے مشورے بھی ہیں جو پراسرار بابوں کے مقابلے میں آج بھی کام کے لگتے ہیں۔
فیصلہ کرنا اور ڈٹے رہنا
ہل کا دعویٰ ہے کہ جن کامیاب لوگوں کا انہوں نے مطالعہ کیا وہ فیصلہ جلدی کرتے تھے اور بدلتے دیر سے تھے۔ ناکام لوگ فیصلہ دیر سے کرتے تھے اور بار بار بدلتے تھے۔ وہ اس کی بڑی وجہ بہت زیادہ لوگوں کی رائے سننا بتاتے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ اپنے منصوبے اپنے اور اپنے چنے ہوئے گروپ تک محدود رکھیں۔
ثابت قدمی پر وہ آر یو ڈاربی (R. U. Darby) کا قصہ سناتے ہیں۔ ان کے خاندان کو سونے کی رگ ملی، پھر وہ گم ہو گئی۔ انہوں نے کچھ دیر کھدائی کی اور ہار مان لی۔ مشینری ایک کباڑیے کو بیچ دی۔ کباڑیے نے کان کنی کے انجینئر سے مشورہ کیا اور جہاں وہ رکے تھے وہاں سے تین فٹ آگے سونا نکال لیا۔
ہل ثابت قدمی کو ایسی عادت مانتے ہیں جو سکھائی جا سکتی ہے۔ ان کا نسخہ ہے واضح مقصد، ایسا منصوبہ جس پر مسلسل عمل ہو، حوصلہ توڑنے والی باتوں پر کان نہ دھرنا، اور حوصلہ بڑھانے والوں کا ساتھ۔ ایک حد ایسی ہے جس پر وہ بات نہیں کرتے۔ کچھ کام چھوڑ دینے کے ہی لائق ہوتے ہیں، اور کتاب یہ پہچاننے میں کوئی مدد نہیں دیتی کہ کون سے۔
ماسٹر مائنڈ اور چھ خوف
ماسٹر مائنڈ (Master Mind) ہل کا دیا ہوا نام ہے۔ مراد ہے دو یا زیادہ لوگ جو ایک واضح مقصد کے لیے ہم آہنگی سے کام کریں۔ عملی پہلو سیدھا ہے۔ کسی ایک کے پاس سارا علم، تجربہ یا تعلقات نہیں ہوتے، اور گروپ وہ کمی پوری کر دیتا ہے۔ ہل کے مطابق کارنیگی اپنی دولت کا سہرا ایسے ہی گروپ کو دیتے تھے۔ ہل ایک دوسرا، پراسرار پہلو بھی جوڑتے ہیں کہ مل کر کام کرنے والے ذہن ایک طرح کا تیسرا ذہن پیدا کرتے ہیں۔ پہلی بات درست ہے اور اسے دوسری کی ضرورت نہیں۔
کتاب خوف کے باب پر ختم ہوتی ہے۔ وہ چھ بنیادی خوف گنواتے ہیں: غربت، تنقید، بیماری، محبت کھو دینا، بڑھاپا اور موت۔ وہ قاری سے کہتے ہیں کہ ایمانداری سے اپنے اندر ان کی علامتیں دیکھے، جیسے بے پروائی، شک، فکر، حد سے زیادہ احتیاط اور بہانے بنانے کی عادت۔ ان کی بہانوں کی لمبی فہرست، جس کا ہر بہانہ لفظ "اگر" سے شروع ہوتا ہے، کتاب کے زیادہ کام کے صفحوں میں سے ہے۔
اس ہفتے آزمائیں
- ایک مقصد لکھیں جس میں ٹھیک ٹارگٹ، تاریخ اور یہ ہو کہ آپ اس کے لیے کیا چھوڑنے کو تیار ہیں۔
- یہ بیان ایک ہفتہ روز صبح اونچی آواز میں پڑھیں اور نوٹ کریں کہ اس دن آپ کے کام میں کچھ بدلتا ہے یا نہیں۔
- دو تین ایسے لوگوں کے نام لکھیں جن کے ہنر آپ کی کمی پوری کرتے ہیں اور ان میں سے ایک سے باقاعدہ ملنے کی بات کریں۔
- اپنا سب سے عام بہانہ پہچانیں اور ایک ایسا کام لکھیں جو اسے غلط ثابت کر دے۔
- حال میں ناکام ہونے والا کوئی منصوبہ لیں اور مقصد چھوڑنے کی جگہ منصوبے میں ایک تبدیلی کر کے دوبارہ لکھیں۔
ہماری بے لاگ رائے
ہل نے اپنی تحقیق کا جو حال بیان کیا ہے وہ مشکوک ہے۔ اس کا کوئی آزاد ریکارڈ نہیں کہ کارنیگی نے انہیں یہ کام دیا تھا، اور سیکڑوں مشہور لوگوں کے مطالعے کا دعویٰ جانچا نہیں جا سکتا۔ کتاب صرف جیتنے والوں کو دیکھتی ہے، اس لیے یہ نہیں دکھا سکتی کہ یہی عادتیں ناکام لوگوں میں نہیں تھیں۔ خیالات کی لہروں اور چھٹی حس والے باب سائنس نہیں ہیں۔ یہ وعدہ کہ یقین دولت کو کھینچ لاتا ہے، قاری کو ان باتوں پر بھی خود کو قصوروار ٹھہرانے کی طرف لے جا سکتا ہے جو اس کے بس میں نہیں تھیں۔
عام سوالات
کیا تھنک اینڈ گرو رچ پڑھنے کے قابل ہے؟
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کامیابی پر بعد کی بہت سی کتابیں کہاں سے نکلیں، یا آپ میں صلاحیت ہے مگر کوئی طے شدہ مقصد نہیں، تو ہاں، مگر شک کی نظر سے۔ مقصد اور ثابت قدمی پر کچھ باتیں آج بھی کام کی ہیں، جبکہ خیالات کی لہروں اور چھٹی حس والے باب سائنس نہیں ہیں اور ہل کی اپنی تحقیق کا بیان مشکوک ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
وہ قاری جو اس کتاب کو جاننا چاہتے ہیں جس نے کامیابی کی بعد کی بہت سی تحریروں کو شکل دی، اور وہ لوگ جن میں صلاحیت ہے مگر کوئی طے شدہ مقصد نہیں۔ اسے صرف مشورہ نہیں، اپنے دور کی ایک تاریخی تحریر سمجھ کر شک کی نظر سے پڑھیں۔
یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔
ایپ حاصل کریں