Self-Help

پُراثر لوگوں کی سات عادتیں

یہ خلاصہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ Read this summary in English →

تعارف

اسٹیفن کووی (Stephen R. Covey) کی کتاب پُراثر لوگوں کی سات عادتیں (The 7 Habits of Highly Effective People) کہتی ہے کہ پائیدار کامیابی ترکیبوں سے کم اور کردار سے زیادہ آتی ہے۔ کووی سات عادتیں ایک ترتیب میں رکھتے ہیں۔ پہلی تین انسان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرتی ہیں۔ اگلی تین دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا سکھاتی ہیں۔ ساتویں اپنے جسم، ذہن اور تعلقات کی دیکھ بھال کے بارے میں ہے۔ کتاب میں لکھنے کی مشقیں بھی ہیں۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے

وہ لوگ جو سارا دن مصروف رہتے ہیں مگر محسوس کرتے ہیں کہ کسی اہم چیز کی طرف نہیں بڑھ رہے، اور وہ جن کا کام دوسروں سے بنا کر رکھنے پر منحصر ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو پڑھنے کے ساتھ لکھنے کی مشقیں کرنے کو بھی تیار ہوں۔

کردار پہلے، ترکیب بعد میں

کووی کہتے ہیں کہ کامیابی کے بارے میں پرانی تحریریں کردار پر زور دیتی تھیں، یعنی دیانت، صبر، محنت اور انصاف۔ بعد کی کتابیں اس طرف چلی گئیں جسے وہ شخصیت کی اخلاقیات (personality ethic) کہتے ہیں۔ اس میں ظاہری تاثر، مثبت رویہ اور لوگوں کو پسند آنے کی ترکیبیں آتی ہیں۔ ان کے خیال میں کردار کے بغیر ترکیبیں آخرکار ناکام ہوتی ہیں کیونکہ لوگ بھانپ لیتے ہیں کہ انہیں استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس لیے کتاب اندر سے باہر کی طرف چلتی ہے۔ پہلے آپ چیزوں کو دیکھنے کا اپنا انداز بدلتے ہیں، جسے وہ پیراڈائم (paradigm) کہتے ہیں۔ رویہ اور دوسرے لوگ بعد میں آتے ہیں۔ سات عادتیں ترقی کے سفر کی ترتیب سے رکھی گئی ہیں۔ پہلی تین آپ کو دوسروں پر انحصار سے خود مختاری تک لے جاتی ہیں۔ اگلی تین خود مختاری سے باہمی انحصار (interdependence) تک۔ ساتویں باقی سب کو چلتا رکھتی ہے۔

وہ نتیجے اور نتیجہ دینے کی صلاحیت میں توازن کی بات بھی کرتے ہیں اور سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی کہانی سناتے ہیں۔ جو کسان انڈوں کے لالچ میں مرغی مار دے اس کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ جو طالب علم امتحان سے پہلے پڑھائی کے گھنٹے بڑھانے کے لیے نیند چھوڑ دے وہ یہی غلطی کر رہا ہے۔

اپنی ذمہ داری خود لینا

پہلی عادت پہل کرنا (be proactive) ہے، یعنی یہ ماننا کہ اپنے ردِعمل کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ جو آپ کے ساتھ ہوتا ہے اور جو آپ جواب میں کرتے ہیں، ان دونوں کے درمیان ایک وقفہ ہے۔ اس وقفے میں آپ انتخاب کر سکتے ہیں۔ کووی وکٹر فرینکل (Viktor Frankl) کا حوالہ دیتے ہیں جو نازی کیمپوں میں قید رہے۔ انہوں نے وہاں جانا کہ قید کرنے والے سب کچھ قابو میں رکھ سکتے ہیں، سوائے اس کے کہ وہ اندر سے کیا ردِعمل چنتے ہیں۔

یہاں ان کا سب سے کام کا طریقہ دو دائروں والا ہے۔ فکر کا دائرہ (Circle of Concern) ان سب چیزوں کا ہے جن کی آپ کو فکر ہے: معیشت، موسم، لوگوں کی رائے، سیاست۔ اس کے اندر ایک چھوٹا دائرہ ہے، اثر کا دائرہ (Circle of Influence)، یعنی وہ چیزیں جن کے بارے میں آپ واقعی کچھ کر سکتے ہیں۔ جو لوگ اپنی توانائی باہر کے دائرے میں لگاتے ہیں ان کا اثر گھٹتا جاتا ہے۔ جو اندر کے دائرے پر کام کرتے ہیں ان کا اثر بڑھتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ سے شام کی پڑھائی خراب ہو تو شکایت کرنا پہلے دائرے میں آتا ہے۔ دوپہر میں لیمپ چارج کر لینا یا پڑھائی صبح پر لے جانا دوسرے میں۔

منزل پہلے طے کرنا

دوسری عادت ہے انجام کو ذہن میں رکھ کر شروع کرنا (begin with the end in mind)۔ یہ ایک بے چین کرنے والی مشق سے شروع ہوتی ہے۔ اپنے جنازے کا تصور کریں۔ چار لوگ بات کریں گے: خاندان کا کوئی فرد، ایک دوست، ایک ساتھی اور آپ کے محلے یا برادری کا کوئی شخص۔ سوچیں کہ آپ ہر ایک سے اپنے بارے میں کیا سننا چاہیں گے۔ کووی کے مطابق جواب بتاتے ہیں کہ آپ اصل میں کس چیز کو اہم سمجھتے ہیں۔ اکثر یہ اس سے مختلف ہوتا ہے جس میں آپ کا ہفتہ گزرتا ہے۔

اس کے بعد وہ ذاتی مشن اسٹیٹمنٹ (personal mission statement) لکھنے کو کہتے ہیں۔ یہ ایک مختصر تحریر ہے کہ آپ کیا بننا اور کرنا چاہتے ہیں اور کن اصولوں پر چلیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہر چیز دو بار بنتی ہے، پہلے ذہن میں اور پھر حقیقت میں، جیسے گھر بننے سے پہلے نقشہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ محنت سے سیڑھی چڑھتے ہیں اور اوپر پہنچ کر دیکھتے ہیں کہ سیڑھی غلط دیوار سے لگی تھی۔ جس نوجوان نے کوئی شعبہ صرف رشتہ داروں کی توقع پر چنا ہو وہ یہ بات خوب سمجھے گا۔

اہم کام پہلے

تیسری عادت مشن کو ہفتے کے شیڈول میں بدلتی ہے۔ کووی ہر کام کو دو سوالوں سے پرکھتے ہیں: فوری ہے یا نہیں، اور اہم ہے یا نہیں۔ اس سے چار خانے بنتے ہیں۔ پہلے خانے میں بحران اور ڈیڈ لائنیں ہیں جو فوری بھی ہیں اور اہم بھی۔ تیسرے خانے میں وہ چیزیں ہیں جو بیچ میں آ ٹپکتی ہیں اور فوری لگتی ہیں مگر اہم نہیں ہوتیں، جیسے بہت سی کالیں اور میٹنگیں۔ چوتھا خانہ سیدھا سیدھا وقت کا ضیاع ہے۔

ان کی توجہ دوسرے خانے پر ہے: اہم مگر فوری نہیں۔ ورزش، منصوبہ بندی، نیا ہنر سیکھنا، بچوں کے ساتھ وقت، مشین خراب ہونے سے پہلے اس کی دیکھ بھال۔ یہ کام شور نہیں مچاتے، اس لیے برسوں ٹلتے رہتے ہیں۔ کووی کہتے ہیں کہ پُراثر لوگ زیادہ وقت یہیں لگاتے ہیں۔ اس سے پہلا خانہ چھوٹا ہو جاتا ہے کیونکہ کم چیزیں ایمرجنسی بنتی ہیں۔

وہ دن کی جگہ ہفتے کی منصوبہ بندی کا مشورہ دیتے ہیں۔ آپ زندگی میں جو کردار نبھاتے ہیں وہ لکھیں، جیسے طالب علم، بیٹا یا بیٹی، ملازم اور دوست۔ ہر کردار کے لیے ایک دو مقصد چنیں اور ہفتہ بھرنے سے پہلے ان کا وقت مقرر کر دیں۔

دوسروں کے ساتھ کام کرنا

چوتھی اور پانچویں عادت تعلقات کے بارے میں ہیں۔ کووی جذباتی بینک اکاؤنٹ (emotional bank account) کی مثال دیتے ہیں۔ وعدہ نبھانا، چھوٹی مہربانیاں اور دل سے معافی مانگنا اس میں جمع ہوتے ہیں۔ وعدہ توڑنا اور بدتمیزی اس سے نکلتے ہیں۔ بیلنس زیادہ ہو تو غلطیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ خالی ہو تو ہر لفظ شک سے تولا جاتا ہے۔

دونوں کی جیت والی سوچ (think win-win) کا مطلب ہے ایسا معاہدہ ڈھونڈنا جس میں دونوں کا فائدہ ہو۔ اگر ایسا نہ ملے تو معاملہ چھوڑ دینے پر بھی تیار رہنا۔

پہلے سمجھو، پھر سمجھاؤ (seek first to understand, then to be understood) وہ عادت ہے جو بہت سے قارئین کو سب سے مشکل لگتی ہے۔ ہم میں سے اکثر سنتے ہوئے اپنا جواب تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہمدردی سے سننے (empathic listening) پر زور دیتے ہیں۔ اس میں آپ دوسرے کی بات اور احساس اپنے لفظوں میں دہراتے ہیں، یہاں تک کہ وہ مان لے کہ آپ سمجھ گئے۔ ان کی مثال آنکھوں کا ڈاکٹر ہے جو آپ کو اپنی عینک پکڑا دے کہ یہ مجھے تو خوب لگتی ہے۔ ہم بھی اسی طرح تشخیص سے پہلے نسخہ لکھ دیتے ہیں۔ جو والدین پوری توجہ سے سنیں کہ بچے کو کوئی مضمون کیوں برا لگتا ہے، انہیں اکثر پتا چلتا ہے کہ مسئلہ کچھ اور ہی ہے۔

مل کر کام اور اپنی دیکھ بھال

چھٹی عادت سینرجی (synergize) ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ جو لوگ بھروسے کے ساتھ مل کر کام کریں وہ ایسا نتیجہ دے سکتے ہیں جو ان میں سے کوئی اکیلا نہ دے پاتا۔ کووی کے مطابق اس کا انحصار اختلاف کی قدر کرنے پر ہے۔ کوئی آپ سے متفق نہ ہو تو اسے ایسی معلومات سمجھیں جو آپ کے پاس نہیں، اور تیسرا راستہ ڈھونڈیں جو دونوں کی شروع کی رائے سے بہتر ہو۔

ساتویں عادت آری تیز کرنا (sharpen the saw) ہے۔ وہ ایک آدمی کا قصہ سناتے ہیں جو کند آری سے گھنٹوں درخت کاٹ رہا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پاس آری تیز کرنے کا وقت نہیں، میں کاٹنے میں مصروف ہوں۔ کووی چار پہلو بتاتے ہیں جن کی باقاعدہ دیکھ بھال چاہیے۔ جسمانی پہلو میں ورزش، خوراک اور آرام ہیں۔ ذہنی میں پڑھنا اور لکھنا۔ سماجی اور جذباتی میں تعلقات۔ روحانی پہلو وہ ہے جو آپ کو اپنی اقدار سے جوڑے۔ یہ کسی کے لیے عبادت ہو سکتی ہے، کسی کے لیے غور و فکر یا قدرت کے قریب وقت گزارنا۔ وہ اسے دوسرے خانے کا کام سمجھتے ہیں جس سے باقی ساری عادتیں ممکن ہوتی ہیں۔

اس ہفتے آزمائیں

  1. دو دائرے بنائیں، باہر والے میں اپنی موجودہ پریشانیاں لکھیں اور اندر والے میں صرف وہ جن پر آپ اس ہفتے کچھ کر سکتے ہیں۔
  2. جو بڑے کردار آپ نبھاتے ہیں وہ لکھیں اور ہر ایک میں کسی ایسے اہم کام کے لیے اس ہفتے ایک گھنٹہ مقرر کریں جس کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں۔
  3. اگلے اختلاف میں پہلے دوسرے کی بات اپنے لفظوں میں دہرائیں، اور جب وہ مان لے کہ آپ ٹھیک سمجھے ہیں تب اپنی بات کریں۔
  4. دس منٹ میں اپنے ذاتی مشن اسٹیٹمنٹ کا پہلا کچا مسودہ لکھیں، اسے مکمل بنانے کی کوشش نہ کریں۔
  5. کسی ایسے تعلق میں جسے آپ نے نظرانداز کیا ہے، ایک چھوٹا وعدہ پورا کریں جو ادھورا رہ گیا تھا۔

ہماری بے لاگ رائے

کتاب جتنا کہتی ہے اس کے حساب سے لمبی ہے۔ پیراڈائم، سینرجی اور مشن اسٹیٹمنٹ جیسے الفاظ برسوں کی کارپوریٹ ٹریننگ میں گھس گھس کر بے اثر ہو چکے ہیں۔ کووی اپنے اصولوں کو ایسے فطری قانون کہتے ہیں جو ہر جگہ لاگو ہوں، مگر وہ یہ دعویٰ زیادہ کرتے ہیں اور ثابت کم۔ ان کا اپنا مذہبی پس منظر بھی طے کرتا ہے کہ وہ کس چیز کو عالمگیر مانتے ہیں۔ جہاں ایک فریق کے پاس بہت زیادہ اختیار ہو، جیسے جونیئر ملازم اور ناانصاف باس، وہاں دونوں کی جیت مشکل ہے۔ خاندان کے کئی قصے بناوٹی لگتے ہیں۔

عام سوالات

کیا پُراثر لوگوں کی سات عادتیں پڑھنے کے قابل ہے؟

ہاں، اگر آپ سارا دن مصروف رہ کر بھی محسوس کرتے ہیں کہ کسی اہم چیز کی طرف نہیں بڑھ رہے، اور پڑھنے کے ساتھ لکھنے کی مشقیں کرنے کو بھی تیار ہیں۔ یاد رہے کہ کتاب اپنی بات کے حساب سے لمبی ہے اور کووی اپنے اصول ثابت کم کرتے ہیں، دعویٰ زیادہ۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے؟

وہ لوگ جو سارا دن مصروف رہتے ہیں مگر محسوس کرتے ہیں کہ کسی اہم چیز کی طرف نہیں بڑھ رہے، اور وہ جن کا کام دوسروں سے بنا کر رکھنے پر منحصر ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو پڑھنے کے ساتھ لکھنے کی مشقیں کرنے کو بھی تیار ہوں۔

"Most people do not listen with the intent to understand; they listen with the intent to reply."

— Stephen R. Covey, The 7 Habits of Highly Effective People

یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔

ایپ حاصل کریں
Read summaries offline in the free app MyByteNest for Android: 268 book summaries, 50 of them in depth, some in Urdu. No sign-up and no subscription.
Get it on Google Play