Science

سیپیئنز

یہ خلاصہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ Read this summary in English →

تعارف

یووال نوح ہراری (Yuval Noah Harari) کی کتاب سیپیئنز (Sapiens) انسان کی پوری تاریخ ایک جلد میں بیان کرتی ہے، پتھر کے زمانے سے آج تک۔ ہراری پوچھتے ہیں کہ ایک عام سا جانور پوری زمین پر کیسے چھا گیا۔ ان کا جواب ہے کہ انسان مشترکہ کہانیوں پر یقین کر کے لاکھوں اجنبیوں کے ساتھ مل کر کام کر سکتا ہے۔ کتاب تین بڑے موڑ بیان کرتی ہے، یعنی ذہنی، زرعی اور سائنسی انقلاب، اور آخر میں یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اس ساری ترقی نے ہمیں خوش بھی کیا یا نہیں۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے

وہ قاری جو انسانی تاریخ کی ایک بڑی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں اور جنہیں اپنے مانے ہوئے خیالات پر سوال اٹھنا برا نہیں لگتا۔ تاریخ یا سائنس کا پہلے سے علم ضروری نہیں۔

ایک نوع سب پر کیسے چھا گئی

ہراری کے مطابق تقریباً ستر ہزار سال پہلے ہومو سیپیئنز (Homo sapiens) انسانوں کی کئی قسموں میں سے ایک تھا اور کوئی خاص جانور نہیں تھا۔ پھر اس کے سوچنے اور بات کرنے کے انداز میں کچھ بدلا۔ اسے وہ ذہنی انقلاب (Cognitive Revolution) کہتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اس کی وجہ یقین سے کسی کو معلوم نہیں۔

ان کے لیے اہم بات نتیجہ ہے۔ بہت سے جانور ایک دوسرے کو شیر سے خبردار کر سکتے ہیں۔ صرف سیپیئنز ان چیزوں کے بارے میں بات کر سکتا ہے جو جسمانی طور پر موجود نہیں، جیسے روحیں، قومیں، قانون اور کمپنیاں۔ جب بہت سے لوگ ایک ہی کہانی مانتے ہوں تو وہ اجنبیوں کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔ چمپینزیوں کا گروہ چھوٹا رہتا ہے کیونکہ اس کے ارکان کا ایک دوسرے کو ذاتی طور پر جاننا ضروری ہے۔ انسان ہزاروں اجنبیوں کا شہر یا لشکر بنا لیتے ہیں کیونکہ سب ایک ہی جھنڈے یا ایک ہی کرنسی پر بھروسا کرتے ہیں۔

ان کی مثال گاڑیوں کی کمپنی پیژو (Peugeot) ہے۔ کمپنی نہ تو اپنی فیکٹریوں کا نام ہے، نہ منیجروں کا، نہ شیئر ہولڈروں کا۔ یہ سب بدلے جا سکتے ہیں۔ کمپنی اس لیے موجود ہے کہ قانون اور لوگ مانتے ہیں کہ وہ موجود ہے۔

کھیتی باڑی کا جال

اسکول کی کتابوں میں کھیتی باڑی کو ترقی کا ایک واضح قدم بتایا جاتا ہے۔ زرعی انقلاب (Agricultural Revolution) تقریباً بارہ ہزار سال پہلے شروع ہوا، اور ہراری اسے تاریخ کا سب سے بڑا دھوکا کہتے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق شکار کرنے اور پھل جمع کرنے والے لوگ طرح طرح کی خوراک کھاتے تھے، کم گھنٹے کام کرتے تھے اور وبائی بیماریوں کا کم شکار ہوتے تھے۔ کسان صبح سے شام تک کام کرتے اور چند فصلوں پر انحصار کرتے تھے۔

کھیتی باڑی اس لیے پھیلی کہ اس سے لوگ زیادہ ہو گئے۔ گندم کا کھیت اتنی ہی زمین پر شکاریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے، چاہے ہر ایک کی خوراک پہلے سے بدتر ہو۔ زیادہ بچے زندہ رہے، گاؤں بڑھے اور چند نسلوں بعد کسی کو یاد نہ رہا کہ کسی اور طرح کیسے جیا جاتا تھا۔ ہراری کہتے ہیں کہ گندم نے ہمیں زیادہ پالتو بنایا اور ہم نے گندم کو کم۔ انسان اس پودے کے لیے پتھر ہٹاتا، پانی ڈھوتا اور کھیت کی رکھوالی کرتا رہا۔

اسے وہ آسائش کا جال (luxury trap) کہتے ہیں۔ ہر چھوٹی بہتری زندگی آسان کرنے کے لیے تھی مگر اس نے نئی ضرورتیں پیدا کر دیں۔ وہ اس نوجوان گریجویٹ کی مثال دیتے ہیں جو سخت نوکری اس ارادے سے کرتا ہے کہ پینتیس سال کی عمر میں چھوڑ دے گا۔ پینتیس کا ہوتا ہے تو گھر کی قسطیں اور بچوں کی فیسیں ہوتی ہیں اور وہ پہلے سے زیادہ محنت کر رہا ہوتا ہے۔

کہانیاں جو لاکھوں کو جوڑتی ہیں

جب لوگ بڑی آبادیوں میں رہنے لگے تو انہیں ایسے نظام چاہیے تھے جو ذاتی جان پہچان سے آگے چلیں۔ ہراری انہیں تصوراتی نظام (imagined orders) کہتے ہیں۔ قانون، سماجی درجے اور بادشاہتیں اس لیے موجود ہیں کہ لوگ مل کر ان پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ غیر اہم ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا وجود فطرت میں نہیں بلکہ لوگوں کے مشترکہ تصور میں ہے، اور جب کافی لوگ یقین چھوڑ دیں تو یہ گر جاتے ہیں۔

ان کے مطابق تحریر حساب کتاب کے لیے ایجاد ہوئی۔ سومر (Sumer) کی سب سے پرانی معلوم تحریروں میں اناج کی مقدار اور قرض کا حساب ہے، شاعری نہیں۔

پھر وہ تین قوتیں بتاتے ہیں جنہوں نے الگ الگ معاشروں کو ایک عالمی معاشرے کی طرف کھینچا: پیسہ، سلطنتیں اور عالمگیر مذاہب۔ پیسے کو وہ باہمی اعتماد کا سب سے عالمگیر نظام کہتے ہیں۔ لاہور کے دکاندار اور چین کے سپلائر میں شاید کچھ بھی مشترک نہ ہو۔ پھر بھی دونوں کو بھروسا ہے کہ یہ نوٹ یا اسکرین پر لکھا ہوا عدد اگلا آدمی بھی قبول کرے گا۔

لاعلمی کی دریافت

ہراری کے مطابق تقریباً پانچ سو سال پہلے یورپ کے لوگوں نے اس خیال کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا کہ انہیں سب سے اہم باتیں ابھی معلوم نہیں ہیں۔ پرانی روایتیں مانتی تھیں کہ ضروری علم پرانی کتابوں میں پہلے سے موجود ہے۔ جدید سائنس لاعلمی کے اعتراف سے شروع ہوئی۔ ساتھ ہی یہ یقین تھا کہ مشاہدے اور ریاضی سے حاصل ہونے والا نیا علم نئی صلاحیتیں دے سکتا ہے۔ اسے وہ سائنسی انقلاب (Scientific Revolution) کہتے ہیں۔

وہ اسے سلطنت اور پیسے سے جوڑتے ہیں۔ یورپی مہم جو ایسے نقشے بناتے تھے جن میں خالی جگہیں تھیں، اور انہیں بھرنے کے لیے سمندر میں نکلتے تھے۔ سائنس دان ساتھ جاتے تھے۔ حکمران اور تاجر تحقیق پر پیسہ لگاتے تھے کیونکہ اس سے بہتر جہاز، ہتھیار اور دوائیں ملتی تھیں، اور منافع سے مزید تحقیق ہوتی تھی۔

ان کے بیان میں سرمایہ داری کی بنیاد مستقبل پر بھروسا ہے۔ تاریخ کے بڑے حصے میں لوگ سمجھتے تھے کہ کل دولت محدود ہے، اس لیے قرض دینا خطرناک تھا اور کم دیا جاتا تھا۔ جب لوگ ماننے لگے کہ معیشت بڑھتی رہے گی تو قرض دینا لینا بڑھ گیا۔ بینک بیکری کھولنے والے کو قرض اس لیے دیتا ہے کہ سب کو توقع ہے کہ کل کی آمدنی آج سے زیادہ ہوگی۔

ترقی نے ہمیں خوش کیا یا نہیں

کتاب کے آخر میں ہراری وہ موضوع چھیڑتے ہیں جس سے مورخ عام طور پر بچتے ہیں، یعنی یہ کہ اس سب سے انسان زیادہ خوش ہوا یا نہیں۔ ہمارے پاس پرانے زمانے کے کسان سے زیادہ خوراک، دوا اور تحفظ ہے۔ انہیں یقین نہیں کہ ہم زیادہ مطمئن بھی ہیں۔

وہ کئی نظریے دیکھتے ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ خوشی توقعات اور حالات کے فرق پر منحصر ہے، اور حالات جتنے بہتر ہوتے ہیں توقعات اتنی ہی بڑھ جاتی ہیں۔ دوسرا کہتا ہے کہ خوشی زیادہ تر جسم کی کیمسٹری کا معاملہ ہے جسے تاریخ نے نہیں بدلا۔ وہ بدھ مت کے اس خیال پر بھی بات کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ خواہش ہی ہے۔ وہ کسی ایک کے حق میں فیصلہ نہیں دیتے۔

جانوروں کے بارے میں ان کی رائے کہیں زیادہ دوٹوک ہے۔ جن انقلابوں نے انسان کو مالا مال کیا وہ دوسری مخلوقات کے لیے تباہی ثابت ہوئے۔ جہاں سیپیئنز پہنچا وہاں کئی جگہ بڑے جانور جلد ختم ہو گئے۔ آج صنعتی فارمنگ میں اربوں مرغیاں، گائیں اور دوسرے جانور ایسے حالات میں رکھے جاتے ہیں جنہیں وہ تاریخ کے بدترین جرائم میں گنتے ہیں۔

انسان کہاں جا رہا ہے

آخری ابواب مستقبل کی بات کرتے ہیں۔ تقریباً چار ارب سال تک ہر جاندار فطری انتخاب (natural selection) سے بنتا رہا۔ ہراری کہتے ہیں کہ اب سیپیئنز اس کی جگہ اپنا ڈیزائن لا رہا ہے۔ وہ جینیاتی انجینئرنگ، جسم اور مشین کے ملاپ اور ایسی زندگی کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نامیاتی ہو ہی نہ۔

ان کی بات یہ ہے کہ صلاحیتیں تیزی سے آ رہی ہیں، اور یہ طے کرنے کی رفتار اس سے کہیں پیچھے ہے کہ ان کا کرنا کیا ہے۔ جو لوگ اپنا جسم اور ذہن نئے سرے سے بنا سکیں وہ شاید اصل معنوں میں ہومو سیپیئنز رہیں ہی نہ۔

کتاب ایک فکر پر ختم ہوتی ہے۔ ہم اپنے آباؤ اجداد سے کہیں زیادہ کچھ کر سکتے ہیں، مگر اکثر ہمیں خود معلوم نہیں ہوتا کہ ہم چاہتے کیا ہیں، اور ہم اپنی صلاحیتوں کے ساتھ لاپروائی برتتے ہیں۔ ہراری کہتے ہیں کہ مستقبل کا اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا چاہنا چاہتے ہیں۔ وہ اسے کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور کتاب جواب کے بغیر ختم ہوتی ہے۔

اس ہفتے آزمائیں

  1. تین چیزیں لکھیں جنہیں آپ ٹھوس حقیقت سمجھتے ہیں، جیسے پیسہ، عہدہ یا کوئی برانڈ، اور سوچیں کہ ہر ایک مشترکہ یقین پر کیسے کھڑی ہے۔
  2. کوئی ایک سہولت چنیں جو آپ نے وقت بچانے کے لیے اپنائی تھی، جیسے کوئی نئی ایپ، اور ایمانداری سے دیکھیں کہ اس نے وقت بچایا یا کام بڑھایا۔
  3. کسی مورخ یا ماہرِ بشریات کا ایک مضمون پڑھیں جو اس کتاب پر تنقید کرتا ہو تاکہ دوسرا رخ بھی سامنے آئے۔
  4. اس ہفتے اپنی خوراک کی کسی ایک چیز کے بارے میں معلوم کریں کہ وہ کہاں سے آئی اور کیسے تیار ہوئی۔

ہماری بے لاگ رائے

ہراری ستر ہزار سال ایک جلد میں سمیٹتے ہیں، اس لیے بہت سی باتیں سادہ کر دیتے ہیں اور ماہرین نے ان کے کئی دعووں پر اعتراض کیا ہے۔ خوش حال شکاریوں اور بدحال کسانوں کی تصویر میں جتنا یقین ہے، ثبوت اتنا نہیں، اور ذہنی انقلاب کی وجہ محض اندازہ ہے۔ وہ اپنی رائے اکثر اسی لہجے میں لکھتے ہیں جس میں ثابت شدہ حقائق لکھتے ہیں، اور حوالے بھی کم دیتے ہیں، اس لیے عام قاری دونوں میں فرق نہیں کر پاتا۔ اسے سوچنے کے لیے ایک دلیل سمجھ کر پڑھیں، نصابی کتاب سمجھ کر نہیں۔

عام سوالات

کیا سیپیئنز پڑھنے کے قابل ہے؟

ہاں، اگر آپ انسانی تاریخ کی ایک بڑی تصویر چاہتے ہیں اور اپنے مانے ہوئے خیالات پر سوال اٹھنے سے نہیں گھبراتے؛ تاریخ یا سائنس کا پہلے سے علم ضروری نہیں۔ بس اسے سوچنے کے لیے ایک دلیل سمجھ کر پڑھیں، نصابی کتاب سمجھ کر نہیں، کیونکہ ماہرین نے اس کے کئی دعووں پر اعتراض کیا ہے۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے؟

وہ قاری جو انسانی تاریخ کی ایک بڑی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں اور جنہیں اپنے مانے ہوئے خیالات پر سوال اٹھنا برا نہیں لگتا۔ تاریخ یا سائنس کا پہلے سے علم ضروری نہیں۔

یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔

ایپ حاصل کریں
Read summaries offline in the free app MyByteNest for Android: 268 book summaries, 50 of them in depth, some in Urdu. No sign-up and no subscription.
Get it on Google Play