تعارف
ایکہارٹ ٹولے (Eckhart Tolle) کی کتاب دی پاور آف ناؤ (The Power of Now) کہتی ہے کہ ہماری زیادہ تر پریشانی اس وجہ سے ہے کہ ہم ہر وقت ماضی یا مستقبل کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ ٹولے کے مطابق انسان اپنے خیالات نہیں ہے، وہ انہیں دیکھنے والا ہے۔ کتاب سوال جواب کی شکل میں ہے اور اس میں سانس، جسم اور روزمرہ کے کاموں پر توجہ دے کر موجودہ لمحے میں لوٹنے کے طریقے ہیں۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے
وہ لوگ جن کا ذہن کم ہی رکتا ہے، جو پرانی باتیں ذہن میں بار بار دہراتے ہیں اور ان چیزوں کی فکر کرتے ہیں جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔ روحانی زبان سے مانوس قاری کو یہ بھائے گی۔ جو ثبوت اور کھلی وضاحت چاہتے ہیں وہ جھنجھلائیں گے۔
سر کے اندر کی آواز
ٹولے اپنی کہانی سے شروع کرتے ہیں۔ انتیس سال کی عمر تک وہ بے چینی اور گہرے ڈپریشن کے دوروں کا شکار رہے۔ ایک رات انہیں خیال آیا کہ میں اب اپنے ساتھ مزید نہیں رہ سکتا۔ اس جملے کی بناوٹ نے انہیں چونکا دیا۔ اس سے لگتا تھا کہ وہ دو ہیں: ایک میں، اور ایک وہ ذات جس کے ساتھ میں نہیں رہ سکتا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس رات کچھ بدل گیا اور صبح وہ ایک ایسے سکون کے ساتھ اٹھے جو بعد میں بھی قائم رہا۔
یہیں سے پہلا سبق نکلتا ہے۔ آپ اپنا ذہن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر لوگ خیالات کے بہاؤ میں اتنے گم ہیں کہ سر کے اندر کی آواز کو ہی اپنا آپ سمجھتے ہیں۔ یہ آواز بغیر رکے تبصرے اور شکایتیں کرتی ہے اور زیادہ تر ایک ہی بات دہراتی ہے۔
ان کا طریقہ یہ ہے کہ اس آواز کو گواہ کی طرح سنیں، اسے اچھا یا برا کہے بغیر۔ جب آپ کسی خیال کو نوٹ کرتے ہیں تو ایک خیال ہوتا ہے اور ایک اسے نوٹ کرنے والا۔ اس لمحے بہاؤ میں ایک وقفہ آتا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ مشق سے یہ وقفے لمبے ہوتے جاتے ہیں۔
گھڑی کا وقت اور ذہن کا وقت
وقت کے بارے میں ٹولے کا دعویٰ ہے کہ کچھ بھی ماضی یا مستقبل میں نہیں ہوتا۔ جو ہوتا ہے ابھی ہوتا ہے۔ ماضی ایک یاد ہے جو ابھی ذہن میں ہے۔ مستقبل ایک تصور ہے جو ابھی ذہن میں ہے۔
وہ منصوبہ بندی کے خلاف نہیں۔ وہ گھڑی کے وقت (clock time) اور نفسیاتی وقت (psychological time) میں فرق کرتے ہیں۔ گھڑی کا وقت عملی ہے: مقصد طے کرنا، وقت پر پہنچنا، غلطی سے سیکھنا۔ نفسیاتی وقت یہ ہے کہ آپ پچھتاوے اور رنجش کے ساتھ ماضی میں پڑے رہیں، یا کسی آنے والے لمحے کے انتظار میں جئیں جب آخرکار خوشی ملے گی۔ امتحان کی تیاری کرنے والی طالبہ ٹائم ٹیبل بناتی ہے تو گھڑی کا وقت استعمال کرتی ہے۔ جب وہ شام بھر فیل ہونے کا تصور کرتی رہے اور سامنے کھلا باب نہ پڑھے تو وہ نفسیاتی وقت میں چلی گئی ہے۔
وہ ایک ٹیسٹ بتاتے ہیں۔ خود سے پوچھیں کہ ٹھیک اس لمحے آپ کا مسئلہ کیا ہے، کل یا دس منٹ بعد نہیں۔ عموماً سامنے ایک صورتِ حال ہوتی ہے جسے سنبھالنا یا قبول کرنا ہے۔ بھاری مسئلے کا احساس اس کہانی سے آتا ہے جو ذہن اس کے بارے میں بناتا ہے۔
پرانے دکھ کا بوجھ
ٹولے اس پرانے جذباتی دکھ کو ایک نام دیتے ہیں جو انسان ساتھ لیے پھرتا ہے۔ وہ اسے پین باڈی (pain-body) کہتے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق ہر وہ تکلیف دہ تجربہ جس کا پوری طرح سامنا نہ کیا گیا ہو، کچھ پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ یہ باقیات مل کر جسم اور ذہن میں منفی توانائی کی ایک تہہ بنا لیتی ہیں۔ پین باڈی زیادہ تر وقت خاموش پڑا رہتا ہے اور جب کوئی چیز اسے چھیڑ دے تو جاگ اٹھتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جاگنے کے بعد پین باڈی مزید دکھ پر پلتا ہے اور سوچ پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اسی سے وہ ان ردِعمل کو سمجھاتے ہیں جو واقعے سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ جیسے گھر میں کہی گئی ایک بے ضرر بات جو ایسے جھگڑے میں بدل جائے جو پوری شام چلے۔
ان کی ہدایت ہے کہ اسے دیکھیں۔ جب موڈ بگڑنے لگے تو اسے نوٹ کریں، جسم میں محسوس کریں اور اسے اپنی سوچ نہ بننے دیں۔ ان کے مطابق توجہ دکھ اور خیالات کا رشتہ کاٹ دیتی ہے، اور پین باڈی دیکھے جانے کے بعد زیادہ دیر ٹک نہیں پاتا۔
جسم کی طرف لوٹنا
کتاب کے زیادہ تر عملی مشوروں کا مقصد یہ ہے کہ جسم کی مدد سے سوچ کے چکر سے باہر نکلا جائے۔ ٹولے کہتے ہیں کہ جسم کو اندر سے محسوس کریں۔ آنکھیں بند کریں اور دیکھیں کہ کیا آپ اپنے ہاتھوں میں زندگی محسوس کر سکتے ہیں، دیکھے اور چھوئے بغیر۔ پھر بازو، پاؤں اور سینہ۔ اسے وہ اندرونی جسم (inner body) کا شعور کہتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ توجہ وہاں رکھنے سے آپ کام یا بات کرتے ہوئے بھی موجودہ لمحے میں ٹکے رہتے ہیں۔
سانس دوسرا راستہ ہے۔ چند سانسوں پر پوری توجہ دینے سے خیالات کا بہاؤ ٹوٹتا ہے۔ کسی عام کام پر پوری توجہ دینے سے بھی یہی ہوتا ہے۔ وہ سیڑھیاں چڑھنے کی مثال دیتے ہیں، یا ہاتھ دھوتے ہوئے پانی کو محسوس کرنے کی۔
انتظار بھی ایک موقع ہے۔ ہم میں سے اکثر قطار یا ٹریفک جام کو ضائع وقت سمجھتے ہیں اور موبائل یا جھنجھلاہٹ میں پناہ لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بس وہیں موجود رہیں اور آوازوں، روشنی اور سانس پر دھیان دیں۔ اس میں دن بھر بار بار تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے توجہ کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔ یہ سننے میں جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہے نہیں۔
جو ہے اسے قبول کرنا
ٹولے کے مطابق ناخوشی کا بڑا حصہ اس چیز سے لڑنے سے آتا ہے جو پہلے ہی ہو چکی ہے۔ ذہن کہتا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اور اس بحث سے صورتِ حال کی تکلیف دگنی ہو جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ لمحے کو ایسے قبول کریں جیسے آپ نے اسے خود چنا ہو۔
قاری اکثر اس کا مطلب ہار ماننا سمجھتے ہیں، اور ٹولے اس کی تصحیح کرتے ہیں۔ ان کے ہاں تسلیم (surrender) اندر کی چیز ہے۔ اگر آپ کیچڑ میں پھنسے ہیں تو آپ یہ نہیں کہتے کہ میں یہیں خوش ہوں۔ آپ غصے اور خود ترسی کے بغیر مان لیتے ہیں کہ آپ کیچڑ میں ہیں۔ پھر نکلنے کے لیے جو کرنا ہو کرتے ہیں۔
ناگوار حالات کے لیے وہ ایک اصول دیتے ہیں۔ آپ کے پاس تین راستے ہیں: اس صورتِ حال سے نکل جائیں، اسے بدل دیں، یا اسے پوری طرح قبول کر لیں۔ جس کا منیجر نامعقول ہے وہ دوسری نوکری ڈھونڈ سکتا ہے، بات اٹھا سکتا ہے، یا رہنے کا فیصلہ کر کے دل میں شکایت کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ وہیں رہنا اور روز شکایت کرتے رہنا وہ واحد راستہ ہے جسے وہ رد کرتے ہیں۔
انا اور رشتے
ٹولے کے ہاں انا (ego) وہ جھوٹی ذات ہے جو ذہن کے ساتھ اپنی پہچان جوڑ لینے سے بنتی ہے۔ یہ مقابلے اور خواہش پر زندہ رہتی ہے اور اسے ہمیشہ کچھ اور چاہیے ہوتا ہے۔ اسے مخالف بھی چاہئیں، کیونکہ خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط ٹھہرانے سے اس کی ذات کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔
قریبی رشتوں کے بارے میں ان کی رائے اسی سے بنتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے رشتے لگاؤ اور دشمنی کے بیچ جھولتے رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کو اپنی کوئی کمی پوری کرنے یا اپنا دکھ ڈھانپنے کے لیے استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ جب دوسرا یہ کام کرنا چھوڑ دے تو پرانا دکھ لوٹ آتا ہے اور الزام اسی پر آتا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ دوسرے کے بارے میں فیصلے صادر کرنا چھوڑیں، اپنا ردِعمل اٹھتے ہی نوٹ کریں اور سامنے والے کو جگہ دیں۔
کتاب سوال جواب کی شکل میں ہے جو ان کی گفتگوؤں اور مشاورت پر مبنی ہیں۔ وہ مختلف مذہبی روایتوں کے اساتذہ کا حوالہ دیتے ہیں، اور ان کے نزدیک ان سب کی تعلیم موجودگی (presence) کے ایک ہی تجربے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اس ہفتے آزمائیں
- موبائل پر دن میں تین ریمائنڈر لگائیں اور ہر بار بجنے پر پوری توجہ سے پانچ آہستہ سانسیں لیں۔
- دن میں ایک بار ہاتھ دھوتے یا چائے پیتے وقت موبائل دور رکھیں اور صرف وہی محسوس کریں جو ہو رہا ہے۔
- جب خود کو فکر کرتے پکڑیں تو پوچھیں کہ ٹھیک اس لمحے مسئلہ کیا ہے، اور صرف اسی سے نمٹیں۔
- اگلی بار قطار یا ٹریفک میں پھنسیں تو موبائل جیب میں رہنے دیں اور آس پاس کی آوازیں سنیں۔
- ایک صورتِ حال چنیں جس کی آپ شکایت کرتے رہتے ہیں اور اس ہفتے طے کریں کہ اسے چھوڑنا ہے، بدلنا ہے یا قبول کرنا ہے۔
ہماری بے لاگ رائے
ٹولے کے دعوے ان کے ذاتی تجربے پر کھڑے ہیں اور انہیں پرکھا نہیں جا سکتا۔ پین باڈی جیسی اصطلاحیں استعارے ہیں، نفسیات کی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ تحریر میں تکرار ہے اور بات اکثر مبہم رہتی ہے۔ وہ کئی مذہبی روایتوں سے جو چاہتے ہیں لے لیتے ہیں اور ان کے آپس کے فرق مٹا دیتے ہیں۔ حال کو قبول کرنے اور خیالات کو دیکھنے کا مشورہ عام فکر میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن یہ شدید ڈپریشن، صدمے یا بدسلوکی والے حالات کا علاج نہیں، اور کتاب یہ حد واضح نہیں کرتی۔
عام سوالات
کیا دی پاور آف ناؤ پڑھنے کے قابل ہے؟
اگر آپ کا ذہن کم ہی رکتا ہے اور آپ روحانی زبان سے مانوس ہیں تو ہاں؛ حال کو قبول کرنے اور خیالات کو دیکھنے کا مشورہ عام فکر میں مدد دے سکتا ہے۔ مگر دعوے پرکھے نہیں جا سکتے، تحریر میں تکرار ہے، اور یہ شدید ڈپریشن یا صدمے کا علاج نہیں۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
وہ لوگ جن کا ذہن کم ہی رکتا ہے، جو پرانی باتیں ذہن میں بار بار دہراتے ہیں اور ان چیزوں کی فکر کرتے ہیں جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔ روحانی زبان سے مانوس قاری کو یہ بھائے گی۔ جو ثبوت اور کھلی وضاحت چاہتے ہیں وہ جھنجھلائیں گے۔
"Realize deeply that the present moment is all you ever have. Make the Now the primary focus of your life."
— Eckhart Tolle, The Power of Now
یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔
ایپ حاصل کریں