تعارف
وکٹر فرینکل (Viktor Frankl) کی کتاب مینز سرچ فار میننگ (Man's Search for Meaning) دو حصوں میں ہے۔ پہلے حصے میں وہ نازی کیمپوں میں گزرے اپنے دن بیان کرتے ہیں۔ دوسرے حصے میں علاج کا وہ طریقہ سمجھاتے ہیں جو انہوں نے خود بنایا اور جسے لوگوتھراپی (logotherapy) کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جسے اپنا مقصد نظر آ جائے، وہ بڑی سے بڑی مشکل سہہ لیتا ہے۔ ان کے نزدیک انسان کی سب سے بڑی طلب لذت نہیں، اپنی زندگی کا مقصد پانا ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے
وہ لوگ جو کسی مشکل دور سے گزر رہے ہیں، جیسے گھر میں کسی کی وفات یا لمبی بیماری، اور سوچتے ہیں کہ اس سب کا مطلب کیا ہے۔ یہ ان طالب علموں کے لیے بھی اچھی ہے جن کے پاس ضرورت کی ہر چیز ہے مگر اندر سے خالی پن محسوس ہوتا ہے۔
کیمپ کے اندر ایک ماہرِ نفسیات
وکٹر فرینکل ویانا میں نفسیاتی امراض کے ڈاکٹر تھے جب نازیوں نے انہیں گرفتار کر کے کیمپ بھیج دیا۔ انہوں نے تقریباً تین سال قیدیوں کے کیمپوں (concentration camps) میں گزارے، جن میں آشوٹز (Auschwitz) بھی شامل تھا۔ ان کے والد، والدہ، بھائی اور بیوی سب ہولوکاسٹ (Holocaust) میں مارے گئے۔
کتاب کا پہلا حصہ کیمپ کی زندگی بیان کرتا ہے، مگر یہ مظالم کی فہرست نہیں ہے۔ فرینکل ایک ڈاکٹر کی طرح دیکھتے ہیں کہ عام قیدیوں کے ذہن پر کیا گزرتی تھی۔ وہ اس کے مرحلے بتاتے ہیں۔ پہلے پہنچتے ہی صدمہ ہوتا تھا، اور لوگ پھر بھی اس امید سے چمٹے رہتے تھے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر احساسات مردہ ہونے لگتے تھے۔ یہ بچاؤ کا ایک خول تھا، جس کی وجہ سے قیدی وہ تکلیف دیکھ کر بھی گزر جاتے جس پر پہلے رو پڑتے۔ رہائی کے بعد تیسرا مرحلہ آیا۔ بہت سے قیدی سُن تھے اور کچھ کے دل میں تلخی تھی۔ انہیں خوش ہونا آہستہ آہستہ دوبارہ سیکھنا پڑا۔
فرینکل نے یہ سب جنگ کے فوراً بعد چند دنوں میں لکھا۔ تحریر سادہ اور مختصر ہے۔ پوری کتاب ایک دوپہر میں پڑھی جا سکتی ہے۔
کچھ قیدی کس سہارے پر جیتے رہے
فرینکل صاف کہتے ہیں کہ بچ جانا بڑی حد تک قسمت کی بات تھی۔ پھر بھی انہوں نے دیکھا کہ جن قیدیوں کا مستقبل میں کوئی انتظار کر رہا تھا یا کوئی کام باقی تھا، وہ ہمت ہارنے والوں سے زیادہ مضبوطی سے ڈٹے رہے۔ اسے سمجھانے کے لیے وہ نطشے (Nietzsche) کا قول دہراتے ہیں۔ جس کے پاس جینے کی کوئی وجہ ہو، وہ تقریباً ہر حال سہہ لیتا ہے۔
خود فرینکل کے پاس دو چیزیں تھیں۔ ایک ان کی بیوی۔ سخت سردی میں کام کی جگہ تک پیدل جاتے ہوئے وہ دل ہی دل میں ان سے باتیں کرتے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ دوسری چیز ایک مسودہ تھا، ان کی عمر بھر کی محنت، جو آشوٹز میں ان سے چھین لیا گیا۔ انہوں نے ٹھان لی تھی کہ اسے دوبارہ لکھیں گے۔ ٹائیفس کے بخار میں بھی وہ کاغذ کے ٹکڑوں پر اس کے نوٹس لکھتے رہے۔
وہ اس کا الٹ واقعہ بھی لکھتے ہیں۔ ایک ساتھی قیدی نے خواب دیکھا کہ مارچ 1945 کی ایک خاص تاریخ کو اس کی تکلیف ختم ہو جائے گی۔ وہ دن قریب آیا اور رہائی کے کوئی آثار نہ تھے۔ وہ آدمی بیمار پڑ گیا اور اس تاریخ کے اگلے دن مر گیا۔
وہ آزادی جو کوئی نہیں چھین سکتا
کتاب کی سب سے مشہور بات یہ ہے کہ دوسرے لوگ آپ کے حالات پر قابو پا سکتے ہیں، مگر ان حالات میں آپ کا رویہ کیا ہوگا، یہ فیصلہ آپ کا اپنا رہتا ہے۔ فرینکل نے بیرکوں میں ایسے لوگ دیکھے جو دوسروں کو تسلی دیتے تھے اور اپنی روٹی کا آخری ٹکڑا بھی دے دیتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ کم تھے، مگر اتنے ضرور تھے کہ ثابت ہو جائے کہ وہاں بھی انسان کے پاس انتخاب ہوتا ہے۔
وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ آسان ہے، یا یہ کہ رویہ بدلنے سے درد ختم ہو جاتا ہے۔ وہ بس اتنا کہتے ہیں کہ حالات کتنے ہی برے ہوں، کچھ نہ کچھ ایسا بچ جاتا ہے جو انسان کا اپنا ہے۔ قیدی یہ نہیں چن سکتا تھا کہ اسے مارا جائے گا یا نہیں۔ وہ یہ چن سکتا تھا کہ خود ظالم بنے یا نہ بنے۔
ہم میں سے اکثر کو ایسی کسی آزمائش کا سامنا کبھی نہیں ہوگا۔ پھر بھی یہ بات چھوٹی سطح پر کام آتی ہے۔ جو طالب علم انٹری ٹیسٹ میں رہ گیا، نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ اگلا سال وہ پرچے کو کوسنے میں گزارے یا دوبارہ تیاری میں، یہ اس کے ہاتھ میں ہے۔
مقصد کی تلاش: انسان کی اصل طلب
دوسرے حصے میں لوگوتھراپی کا تعارف ہے، یعنی علاج کا وہ طریقہ جس کی بنیاد فرینکل نے رکھی۔ فرائڈ (Freud) کے خیال میں انسان کو زیادہ تر لذت کی خواہش چلاتی ہے، اور ایڈلر (Adler) کے خیال میں طاقت کی خواہش۔ فرینکل کہتے ہیں کہ سب سے گہری خواہش اپنی زندگی کا مقصد پانا ہے۔ جب یہ خواہش پوری نہ ہو تو انسان اندر سے خالی محسوس کرتا ہے۔ اسے وہ وجودی خلا (existential vacuum) کہتے ہیں۔ یہ اکتاہٹ کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ وہ اس اداسی کا ذکر کرتے ہیں جو کچھ لوگوں پر چھٹی کے دن چھا جاتی ہے۔ ہفتے بھر کی مصروفیت رکتی ہے تو انہیں اپنی زندگی کا خالی پن نظر آنے لگتا ہے۔
وہ سب کے لیے زندگی کا ایک ہی مقصد بتانے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایسا ہے جیسے شطرنج کے چیمپئن سے پوچھا جائے کہ دنیا کی بہترین چال کون سی ہے۔ ایسی کوئی چال نہیں ہوتی۔ ہر بازی کی ہر صورت میں بہترین چال الگ ہوتی ہے۔ اسی طرح مقصد ہر انسان کا الگ ہے اور وقت کے ساتھ بدلتا بھی ہے۔ پھر وہ عام سوال کو الٹ دیتے ہیں۔ یہ نہ پوچھیں کہ ہمیں زندگی سے کیا چاہیے۔ یہ پوچھیں کہ زندگی ہم سے کیا چاہتی ہے، اور جواب اپنے عمل سے دیں۔
مقصد ڈھونڈنے کے تین راستے
فرینکل تین راستے بتاتے ہیں۔ پہلا کام یا عمل ہے، یعنی کچھ ایسا بنانا یا کرنا جو آپ کے بغیر نہ ہوتا۔ دوسرا تجربہ ہے۔ اس میں سب سے بڑھ کر کسی انسان سے محبت ہے، مگر قدرت اور خوبصورتی بھی شامل ہیں۔ انہیں یاد ہے کہ تھکے ہارے قیدی ایک دوسرے کو بیرک سے باہر بلاتے تھے کہ آؤ، ڈوبتا سورج دیکھو۔ تیسرا راستہ وہ رویہ ہے جو ہم ایسی تکلیف میں اپناتے ہیں جس سے بچنا ممکن نہ ہو۔
وہ ایک تنبیہ بھی کرتے ہیں جو اکثر پڑھنے والوں سے چھوٹ جاتی ہے۔ بامقصد زندگی کے لیے تکلیف اٹھانا ضروری نہیں۔ اگر تکلیف کی وجہ دور ہو سکتی ہے تو اسے دور کرنا ہی سمجھ داری ہے۔ بلا وجہ تکلیف سہتے رہنا کوئی بہادری نہیں۔
تیسرے راستے کی مثال ایک بوڑھے ڈاکٹر کی ہے جو بیوی کی وفات کا غم نہیں بھلا پا رہے تھے۔ فرینکل نے پوچھا کہ اگر آپ پہلے چلے جاتے تو کیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میری بیوی کو بہت تکلیف ہوتی۔ فرینکل نے کہا کہ وہ اس تکلیف سے بچ گئیں، اور اس کی قیمت آپ اپنے غم سے ادا کر رہے ہیں۔ نقصان وہی رہا، مگر ڈاکٹر کو اس میں ایک مقصد نظر آ گیا۔ وہ پہلے سے پُرسکون ہو کر گئے۔
خوشی پیچھا کرنے سے نہیں ملتی
فرینکل کہتے ہیں کہ خوشی اور کامیابی کے پیچھے سیدھا بھاگنے سے وہ ہاتھ نہیں آتیں۔ آپ جتنا زور لگا کر انہیں پکڑنا چاہیں، وہ اتنی ہی دور ہوتی جاتی ہیں۔ یہ تب ملتی ہیں جب آپ خود کو کسی کام میں یا کسی عزیز انسان کے لیے لگا دیں۔ خوشی اس کے ساتھ خود چلی آتی ہے۔
یہی اصول وہ علاج میں بھی لگاتے ہیں۔ کچھ مسئلے ایسے ہیں کہ جتنا لڑیں اتنے بڑھتے ہیں۔ جسے نیند نہ آنے کا ڈر ہو، وہ زبردستی سونے کی کوشش میں جاگتا رہتا ہے۔ ان کا طریقہ الٹی نیت (paradoxical intention) کہلاتا ہے۔ اس میں مریض سے کہا جاتا ہے کہ اسی چیز کی کوشش کرے جس سے ڈرتا ہے۔ یہاں اس کا مطلب ہے کہ جتنی دیر ہو سکے جاگنے کی کوشش کرے۔ ڈر کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے اور عموماً نیند آ جاتی ہے۔ یہ طریقہ مزاح پر چلتا ہے، اور انسان کی اس صلاحیت پر کہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر خود کو دیکھ سکتا ہے۔
آزادی کے ساتھ وہ ذمہ داری کی بات بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف آزادی ہو تو وہ من مانی بن سکتی ہے۔ انہوں نے تو یہ تجویز بھی دی کہ امریکہ کے مشرقی ساحل پر مجسمۂ آزادی (Statue of Liberty) ہے تو مغربی ساحل پر ایک مجسمۂ ذمہ داری بھی ہونا چاہیے۔
اس ہفتے آزمائیں
- ایک ایسے انسان اور ایک ایسے کام کا نام لکھیں جنہیں آنے والے سال میں آپ کی ضرورت ہوگی، اور یہ پرچی ایسی جگہ رکھیں جہاں روز نظر پڑے۔
- کوئی ایک مشکل چنیں جسے آپ ابھی بدل نہیں سکتے، اور دو سطروں میں لکھیں کہ جب تک یہ ہے آپ کیسا رویہ رکھنا چاہتے ہیں۔
- اگر آپ کوئی ایسی تکلیف سہہ رہے ہیں جو ٹھیک ہو سکتی ہے، جیسے صحت کا کوئی مسئلہ یا دفتر کا کوئی غلط انتظام، تو اس ہفتے اسے ٹھیک کرنے کی طرف ایک قدم اٹھائیں۔
- چھٹی کے دن خالی پن محسوس ہو تو موبائل اٹھانے سے پہلے ایک گھنٹہ کسی کی مدد کرنے یا کوئی چیز بنانے میں لگائیں۔
ہماری بے لاگ رائے
کیمپ کی یادداشتوں والا حصہ لوگوتھراپی والے حصے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ دوسرا حصہ خشک ہے اور آزمائے ہوئے ثبوت سے زیادہ فرینکل کے اپنے مریضوں کے قصوں پر کھڑا ہے۔ کچھ ناقدین کو لگتا ہے کہ رویے پر اتنے زور سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے مرنے والوں کے پاس بس مقصد کی کمی تھی۔ حالانکہ فرینکل خود کہتے ہیں کہ زیادہ تر فیصلے قسمت نے کیے اور جو سب سے اچھے تھے وہ واپس نہیں آئے۔ مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ خود آشوٹز میں تھوڑا عرصہ رہے اور قید کا زیادہ وقت دوسرے کیمپوں میں گزرا۔ کتاب سے یہ بات واضح نہیں ہوتی۔ زبان اپنے زمانے کی ہے، جس میں ہر انسان کے لیے مرد کا لفظ لکھا جاتا تھا۔
عام سوالات
کیا مینز سرچ فار میننگ پڑھنے کے قابل ہے؟
ہاں، خاص طور پر کیمپ کی یادداشتوں والا پہلا حصہ، جو سادہ اور مختصر ہے اور ایک دوپہر میں پڑھا جا سکتا ہے۔ لوگوتھراپی والا دوسرا حصہ خشک ہے اور ثبوت سے زیادہ فرینکل کے اپنے مریضوں کے قصوں پر کھڑا ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
وہ لوگ جو کسی مشکل دور سے گزر رہے ہیں، جیسے گھر میں کسی کی وفات یا لمبی بیماری، اور سوچتے ہیں کہ اس سب کا مطلب کیا ہے۔ یہ ان طالب علموں کے لیے بھی اچھی ہے جن کے پاس ضرورت کی ہر چیز ہے مگر اندر سے خالی پن محسوس ہوتا ہے۔
"He who has a why to live for can bear almost any how."
— Friedrich Nietzsche, quoted in the book
یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔
ایپ حاصل کریں