تعارف
ایرک ریس (Eric Ries) کی کتاب دی لین اسٹارٹ اپ (The Lean Startup) نیا بزنس شروع کرنے کا ایک محتاط طریقہ سکھاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے کام میں سب سے بڑا خطرہ ایسی چیز بنانا ہے جو کوئی خریدنا ہی نہ چاہے۔ اس لیے مہینوں کی تیاری کی جگہ چھوٹا تجربہ کریں، گاہک کا ردِعمل ناپیں اور اس سے سیکھ کر اگلا قدم اٹھائیں۔ کتاب میں ایم وی پی، پیوٹ اور ثبوت کے ساتھ سیکھنے جیسے تصورات سمجھائے گئے ہیں۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے
وہ لوگ جو بزنس، ایپ یا کوئی سائیڈ پراجیکٹ شروع کرنا چاہتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ مہینوں کی محنت اور بچت ایسی چیز پر نہ لگ جائے جو کسی کو چاہیے ہی نہیں۔ بڑی کمپنیوں میں نئی چیز شروع کرنے والوں کے لیے بھی مفید ہے۔
اسٹارٹ اپ ایک تجربہ ہے
ریس کے نزدیک اسٹارٹ اپ (startup) لوگوں کا وہ گروہ ہے جو شدید غیر یقینی حالات میں کوئی نئی چیز بنا رہا ہو۔ سائز اور شعبے سے فرق نہیں پڑتا۔ بینک کے اندر نئی سروس بنانے والی ٹیم بھی اسٹارٹ اپ ہے۔ انسٹاگرام پر گھر کا کھانا بیچنے والا بھی۔ دونوں میں ایک بات مشترک ہے۔ ابھی کسی کو نہیں معلوم کہ گاہک کون ہے اور وہ کس چیز کے پیسے دے گا۔
اس لیے وہ کہتے ہیں کہ روایتی بزنس پلان زیادہ تر اندازہ ہوتا ہے جسے اعداد سے سجا دیا جاتا ہے۔ یہ سبق انہوں نے اپنی کمپنی آئی ایم وی یو (IMVU) میں سیکھا۔ ٹیم نے مہینوں ایک پروڈکٹ اس مفروضے پر بنائی کہ گاہک اسے ایک خاص طریقے سے استعمال کریں گے۔ جب پروڈکٹ سامنے آئی تو گاہک اسے اس طرح استعمال کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ شروع کا بہت سا کام ضائع ہو گیا۔
وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ نئی کمپنی کی اصل پیداوار یہ علم ہے کہ گاہک کیا چاہتا ہے۔
وہ سبق جو ثابت ہو سکے
ناکام ہونے والا ہر بانی کہتا ہے کہ اس نے بہت کچھ سیکھا۔ ریس اس سے سخت معیار چاہتے ہیں جسے وہ ثبوت کے ساتھ سیکھنا (validated learning) کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ گاہکوں کے اصل رویے سے دکھا سکیں کہ آپ نے اپنے بزنس کے بارے میں واقعی کوئی سچی بات معلوم کی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ وہ مفروضے لکھ لیں جن پر آپ کا پلان کھڑا ہے۔ دو سب سے اہم ہیں۔ قدر کے مفروضے (value hypothesis) کا سوال یہ ہے کہ گاہک کو پروڈکٹ استعمال کر کے واقعی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں۔ بڑھوتری کے مفروضے (growth hypothesis) کا سوال یہ ہے کہ نئے گاہک آپ تک کیسے پہنچیں گے۔ یہ غلط ہوں تو باقی سارا پلان گر جاتا ہے۔
فرض کریں ایک طالب علم آن لائن ٹیوشن شروع کرنا چاہتا ہے۔ اس کا پلان اس بات پر کھڑا ہے کہ علاقے کے والدین آن لائن ٹیوشن کی فیس دیں گے اور مطمئن والدین دوسروں کو بتائیں گے۔ دونوں باتیں دو ہفتے میں پرکھی جا سکتی ہیں۔ واٹس ایپ پر تھوڑی فیس کے ساتھ آزمائشی کلاس کا پیغام بھیج دیں۔ دس والدین فیس دے دیں تو یہ ثبوت ہے۔ پچاس لوگ کہیں کہ خیال اچھا ہے اور کوئی فیس نہ دے تو یہ بھی ثبوت ہے۔ کمرہ کرائے پر لینے اور بینر چھپوانے سے یہ بہت سستا پڑتا ہے۔
کم سے کم قابلِ عمل پروڈکٹ
ایم وی پی (MVP)، یعنی کم سے کم قابلِ عمل پروڈکٹ (minimum viable product)، وہ سب سے چھوٹی چیز ہے جو آپ کسی مفروضے کو پرکھنے کے لیے گاہک کے سامنے رکھ سکیں۔ یہ اصل پروڈکٹ کا سستا نمونہ نہیں ہے۔ اس کا واحد مقصد سیکھنا ہے۔
کتاب میں دو مشہور مثالیں ہیں۔ زیپوز (Zappos) کے بانی نے قریبی دکانوں میں جوتوں کی تصویریں کھینچیں اور آن لائن لگا دیں۔ آرڈر آتا تو وہ دکان سے پوری قیمت پر جوتا خرید کر بھیج دیتے۔ اسٹاک اور گودام پر پیسہ لگانے سے پہلے انہیں پتا چل گیا کہ لوگ جوتے پہن کر دیکھے بغیر آن لائن خرید لیتے ہیں۔ ڈراپ باکس (Dropbox) کی پروڈکٹ بنانا مشکل تھا۔ اس کے بانی نے پہلے ایک مختصر ویڈیو بنائی جس میں دکھایا کہ چیز کیسے کام کرے گی۔ انتظار کرنے والوں کی فہرست ایک رات میں بہت بڑھ گئی۔ مشکل انجینئرنگ سے پہلے ہی مانگ ثابت ہو گئی۔
بانی ڈرتے ہیں کہ ادھوری چیز سے نام خراب ہوگا یا کوئی آئیڈیا چرا لے گا۔ ریس کا جواب ہے کہ پروڈکٹ اصل مسئلہ حل کرے تو شروع کے گاہک کمیاں معاف کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر آئیڈیاز کو چوری سے کم اور نظرانداز ہونے سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
بناؤ، ناپو، سیکھو
کتاب کا طریقہ ایک چکر ہے جسے بناؤ، ناپو، سیکھو (Build-Measure-Learn) کہا جاتا ہے۔ آپ کوئی چھوٹی چیز بناتے ہیں، ناپتے ہیں کہ گاہک نے کیا کیا، اور سیکھتے ہیں کہ آپ کا مفروضہ ٹھیک تھا یا نہیں۔ پھر دوبارہ۔ ریس کے مطابق مقصد اس چکر کا کل وقت کم کرنا ہے کیونکہ ہر چکر ایک سبق ہے۔
ناپنے میں بہت سی ٹیمیں خود کو دھوکا دیتی ہیں۔ وہ دکھاوے کے اعداد (vanity metrics) سے خبردار کرتے ہیں۔ یہ وہ نمبر ہیں جو ہمیشہ بڑھتے ہیں اور اچھے لگتے ہیں، جیسے کل ڈاؤن لوڈ یا کل رجسٹرڈ یوزر۔ ان سے پتا نہیں چلتا کہ تازہ تبدیلی نے کام کیا یا نہیں۔ وہ ایسے اعداد پسند کرتے ہیں جن پر فیصلہ ہو سکے، خاص طور پر کوہورٹ تجزیہ (cohort analysis) جس میں نئے گاہکوں کے ہر گروپ کو الگ دیکھا جاتا ہے۔ مارچ میں سو لوگ آئے اور بارہ نے پیسے دیے۔ اپریل میں نئے ڈیزائن کے بعد سو آئے اور گیارہ نے دیے۔ تو نئے ڈیزائن سے کچھ نہیں بدلا، چاہے کل یوزر کتنے ہی بڑھ گئے ہوں۔ اس حساب کتاب کو وہ انوویشن اکاؤنٹنگ (innovation accounting) کہتے ہیں۔
رخ بدلیں یا ڈٹے رہیں
وقفے وقفے سے بانی کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اسی سمت چلتا رہے یا بدل دے۔ ریس اس تبدیلی کو پیوٹ (pivot) کہتے ہیں۔ یعنی حکمتِ عملی کے ایک حصے میں سوچ سمجھ کر تبدیلی، اس طرح کہ اب تک جو سیکھا ہے وہ ساتھ رہے۔ ہو سکتا ہے پروڈکٹ وہی رہے اور گاہک کی قسم بدل جائے۔ یا ایک فیچر جو لوگوں کو بہت پسند ہے وہی پوری پروڈکٹ بن جائے۔
وہ مانتے ہیں کہ یہ فیصلہ مشکل ہے اور وجہ زیادہ تر جذباتی ہے۔ دکھاوے کے اعداد ٹیم کو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ترقی ہو رہی ہے۔ غلط اندازہ ماننا ناکامی لگتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ کمپنی نہ بڑھتی ہے نہ بند ہوتی ہے، بس پیسہ ختم ہوتا رہتا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ اس فیصلے کی میٹنگ پہلے سے طے رکھیں تاکہ یہ سوال باقاعدگی سے اور ڈیٹا سامنے رکھ کر پوچھا جائے۔
وہ اسٹارٹ اپ کی باقی عمر گننے کا طریقہ بھی بدلتے ہیں۔ عام پیمانہ یہ ہے کہ کتنے مہینوں کا پیسہ بچا ہے۔ وہ گنتے ہیں کہ آپ ابھی کتنے پیوٹ کر سکتے ہیں۔
بڑھوتری اور مسئلے کی جڑ
ریس بڑھوتری کے تین انجن (engines of growth) بتاتے ہیں۔ پہلے میں ترقی اس سے آتی ہے کہ گاہک جڑے رہیں اور کم لوگ چھوڑیں۔ دوسرے میں گاہک پروڈکٹ استعمال کرتے ہوئے خود ہی دوسروں کو لے آتے ہیں۔ تیسرے میں آپ اشتہار پر خرچ کرتے ہیں اور تب تک بڑھتے ہیں جب تک ایک گاہک سے کمائی اسے لانے کے خرچ سے زیادہ ہو۔ ان کا مشورہ ہے کہ ایک وقت میں ایک انجن پر توجہ دیں۔
کمپنی کے اندر کے مسئلوں کے لیے وہ ٹویوٹا (Toyota) سے پانچ کیوں (Five Whys) کا طریقہ لیتے ہیں۔ کچھ خراب ہو تو پوچھیں کیوں۔ جواب ملے تو اس پر پھر پوچھیں کیوں۔ پانچ بار۔ ویب سائٹ بند ہونے کی جڑ میں شاید ایک نیا ملازم نکلے جسے ٹریننگ ہی نہیں دی گئی تھی۔ تو اصل حل ٹریننگ ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حل پر محنت مسئلے کے سائز کے حساب سے ہو۔
یہ پوری سوچ لین مینوفیکچرنگ (lean manufacturing) سے آئی ہے، اسی لیے کتاب بار بار ضیاع کی بات کرتی ہے۔ ریس کو سب سے زیادہ فکر اس ضیاع کی ہے کہ ٹیم وقت اور بجٹ کے اندر ایسی چیز بنا دے جو کسی کو چاہیے ہی نہ ہو۔
اس ہفتے آزمائیں
- اپنے آئیڈیا کے دو سب سے اہم مفروضے لکھیں: پیسے کون دے گا اور اسے آپ کے بارے میں کیسے پتا چلے گا۔
- اس ہفتے پانچ ممکنہ گاہکوں سے بات کریں اور پوچھیں کہ وہ اس مسئلے سے ابھی کیسے نمٹتے ہیں، یہ نہ پوچھیں کہ آپ کا آئیڈیا کیسا لگا۔
- ایسا ٹیسٹ بنائیں جس پر تقریباً کچھ خرچ نہ ہو، مثلاً ایک سادہ پوسٹ یا فارم جس میں پیشگی آرڈر کی پیشکش ہو۔
- ایک ایسا نمبر چنیں جو گاہک کا اصل رویہ دکھائے، جیسے دوبارہ آنے والے آرڈر، اور لائکس اور فالوورز گننا چھوڑ دیں۔
- آج سے چار ہفتے بعد کی تاریخ کیلنڈر میں لکھیں جس دن آپ اسی نمبر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ جاری رکھنا ہے یا رخ بدلنا ہے۔
ہماری بے لاگ رائے
کتاب کی تقریباً ساری مثالیں سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی ہیں جہاں پروڈکٹ بدلنا سستا ہے۔ دوا، ہارڈویئر، خوراک یا کسی بھی ایسے شعبے میں جہاں سرکاری اجازت درکار ہو، یہ طریقہ مشکل ہے اور ریس اس کا پورا جواب نہیں دیتے۔ کچھ کمپنیوں میں ایم وی پی لاپروائی سے بنا کام بھیجنے کا بہانہ بن گیا ہے۔ ثبوت زیادہ تر بچ جانے والی کمپنیوں کے قصے ہیں جن میں سے کئی اب پرانے لگتے ہیں۔ کتاب کی اپنی اصطلاحیں بھی کبھی کبھی سوچ کی جگہ لے لیتی ہیں۔
عام سوالات
کیا دی لین اسٹارٹ اپ پڑھنے کے قابل ہے؟
ہاں، اگر آپ بزنس، ایپ یا سائیڈ پراجیکٹ شروع کرنے جا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مہینوں کی محنت ایسی چیز پر نہ لگے جو کسی کو چاہیے ہی نہیں۔ بس یاد رکھیں کہ مثالیں تقریباً ساری سافٹ ویئر کمپنیوں کی ہیں، اور دوا، ہارڈویئر یا سرکاری اجازت والے شعبوں میں یہ طریقہ مشکل ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
وہ لوگ جو بزنس، ایپ یا کوئی سائیڈ پراجیکٹ شروع کرنا چاہتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ مہینوں کی محنت اور بچت ایسی چیز پر نہ لگ جائے جو کسی کو چاہیے ہی نہیں۔ بڑی کمپنیوں میں نئی چیز شروع کرنے والوں کے لیے بھی مفید ہے۔
یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔
ایپ حاصل کریں