تعارف
اینجلا ڈک ورتھ (Angela Duckworth) ماہرِ نفسیات ہیں۔ ان کی کتاب گرٹ (Grit) کہتی ہے کہ غیر معمولی کامیابی کا راز ٹیلنٹ نہیں۔ راز لگن اور ثابت قدمی کا وہ ملاپ ہے جسے وہ گرٹ کہتی ہیں۔ ان کی تحقیق امریکی فوجی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ (West Point) کے کیڈٹوں، ہجوں کے مقابلے (spelling bee) کے فائنل تک پہنچنے والے بچوں، سیلز مین اور دوسرے لوگوں پر ہے۔ ان کا گرٹ اسکور بتا دیتا تھا کہ کون ٹکا رہے گا۔ کتاب کا دوسرا حصہ اس پر ہے کہ گرٹ کیسے بڑھائی جا سکتی ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے
وہ لوگ جو ہر کام جوش سے شروع کرتے ہیں اور چند مہینے بعد چھوڑ دیتے ہیں۔ جو والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے شروع کیا ہوا کام پورا کریں، انہیں بھی یہاں کام کے طریقے ملیں گے۔
گرٹ کیا ہے اور یہ خیال کہاں سے آیا
ڈک ورتھ کے مطابق گرٹ لمبے عرصے کے مقصد کے لیے لگن (passion) اور ثابت قدمی (perseverance) کا نام ہے۔ یہاں لگن کا مطلب جوش یا شدید جذبہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ برسوں ایک ہی مقصد میں دلچسپی رکھیں اور ہر چند مہینے بعد رخ نہ بدلیں۔ ثابت قدمی وہ حصہ ہے جسے سب جانتے ہیں، یعنی ناکامی کے بعد بھی کام جاری رکھنا۔
وہ اس موضوع تک سیدھے راستے سے نہیں آئیں۔ انہوں نے مینجمنٹ کنسلٹنگ کی نوکری چھوڑ کر اسکول کے بچوں کو ریاضی پڑھانا شروع کیا۔ وہاں دیکھا کہ جو بچے سب سے جلدی سمجھتے تھے، سال کے آخر میں ہمیشہ انہی کے نتیجے سب سے اچھے نہیں ہوتے تھے۔ بعد میں ماہرِ نفسیات کے طور پر انہوں نے ویسٹ پوائنٹ میں امریکی فوجی اکیڈمی کے نئے کیڈٹوں پر تحقیق کی، جو اپنی پہلی گرمیوں کی سخت ٹریننگ سے گزر رہے تھے۔ اکیڈمی داخلے کے لیے اپنا ایک اسکور بناتی ہے، جس میں تعلیمی نتیجے، جسمانی فٹنس اور قیادت کی ریٹنگ شامل ہیں۔ یہ اسکور ٹھیک سے نہیں بتا پایا کہ کون چھوڑ کر جائے گا۔ ڈک ورتھ کا مختصر سوال نامہ، گرٹ اسکیل (Grit Scale)، اس سے بہتر رہا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ہجوں کے قومی مقابلے کے بچوں میں بھی ایسا ہی دیکھا گیا۔
محنت دو بار کیوں گنی جاتی ہے
کتاب کہتی ہے کہ ٹیلنٹ ہمارا دھیان بھٹکا دیتا ہے۔ زبان سے سب محنت کی قدر کرتے ہیں۔ مگر ڈک ورتھ ایسے تجربوں کا حوالہ دیتی ہیں جن میں دو برابر کے اچھے لوگوں میں سے ہمیں وہ زیادہ پسند آتا ہے جسے پیدائشی باصلاحیت بتایا گیا ہو۔
ان کا اپنا نظریہ دو سادہ مساواتوں میں ہے۔ ٹیلنٹ ضرب محنت برابر مہارت۔ مہارت ضرب محنت برابر کامیابی۔ ان کی تعریف میں ٹیلنٹ یہ ہے کہ محنت کرنے پر آپ کی مہارت کتنی تیزی سے بڑھتی ہے۔ محنت دونوں سطروں میں آتی ہے، اسی لیے وہ کہتی ہیں کہ محنت دو بار گنی جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں کہتیں کہ ٹیلنٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔
فرض کریں دو لوگ انگریزی سیکھ رہے ہیں۔ ایک لڑکا زبان جلدی پکڑتا ہے اور گرامر فوراً سمجھ لیتا ہے، مگر کورس ختم ہوتے ہی چھوڑ دیتا ہے۔ ایک لڑکی آہستہ سیکھتی ہے لیکن پانچ سال روز پڑھتی اور بولتی رہتی ہے۔ آخر میں مہارت لڑکی کی زیادہ ہوتی ہے۔ اور چونکہ وہ انگریزی استعمال کرتی رہتی ہے، اس سے کام بھی زیادہ نکالتی ہے۔ جیسے انٹرویو پاس کرنا، یا ایسی رپورٹ لکھنا جسے لوگ پڑھیں۔
اوپر ایک مقصد، نیچے والے بدل سکتے ہیں
ڈک ورتھ مقاصد کو ایک اہرام (pyramid) کی شکل میں دیکھتی ہیں۔ سب سے نیچے روز کے چھوٹے کام ہیں، جیسے اسائنمنٹ مکمل کرنا یا کسی میسج کا جواب دینا۔ ان کی اہمیت صرف اس لیے ہے کہ یہ اپنے سے اوپر والے مقصد کے کام آتے ہیں۔ سب سے اوپر ایک مقصد ہوتا ہے جو آپ کو کسی اور چیز کے لیے نہیں، خود اسی کے لیے چاہیے۔ وہ اسے قطب نما (compass) جیسا کہتی ہیں۔ گرٹ کا مطلب ہے اس اوپر والے مقصد کو لمبے عرصے تک اپنی جگہ قائم رکھنا۔
اس سے ایک عام الجھن دور ہوتی ہے۔ نیچے والا کوئی مقصد چھوڑ دینا گرٹ کی کمی نہیں، اگر آپ اس کی جگہ اسی منزل کا کوئی دوسرا راستہ لے لیں۔ ایک طالب علم ڈاکٹر بننا چاہتا ہے اور اسے ایک کالج میں داخلہ نہیں ملتا۔ وہ کہیں اور درخواست دے سکتا ہے یا اگلے سال پھر کوشش کر سکتا ہے۔ مقصد وہی ہے، صرف راستہ بدلا ہے۔ گرٹ کی کمی وہ اسے کہتی ہیں کہ آپ ہر سال سب سے اوپر والا مقصد ہی بدل دیں۔ یا ایک ساتھ کئی ایسے مقصد رکھیں جن کا آپس میں تعلق نہ ہو اور جو سب آپ کے وہی چند گھنٹے مانگتے ہوں۔
دلچسپی اور مشق
ڈک ورتھ چار چیزیں بتاتی ہیں جو گرٹ والے لوگ اپنے اندر پیدا کرتے ہیں: دلچسپی، مشق، مقصد اور امید۔ دلچسپی کے معاملے میں وہ اس مشورے کو نہیں مانتیں کہ اپنے اندر جھانکو اور اپنا شوق ڈھونڈ لو۔ انہوں نے جن بہت کامیاب لوگوں کے انٹرویو کیے، ان میں سے اکثر برسوں مختلف چیزیں آزماتے رہے۔ ان کی دلچسپی آہستہ آہستہ بڑھی، اس مضمون سے بار بار واسطہ پڑنے سے اور دوسروں کے حوصلہ بڑھانے سے۔
اس کے بعد مشق آتی ہے، اور ان کی مراد ایک خاص قسم کی مشق ہے۔ اینڈرز ایرکسن (Anders Ericsson) کے کام کی بنیاد پر وہ سوچی سمجھی مشق (deliberate practice) بیان کرتی ہیں۔ آپ اپنی ایک چھوٹی سی کمزوری چنتے ہیں۔ پوری توجہ سے اس پر کام کرتے ہیں۔ جلدی فیڈ بیک لیتے ہیں۔ اور تب تک دہراتے ہیں جب تک وہ بہتر نہ ہو جائے۔ ہجوں کے مقابلے والے بچوں پر ان کی تحقیق میں جو بچے اکیلے بیٹھ کر زیادہ گھنٹے لفظ یاد کرتے تھے، وہ ان سے آگے رہے جو زیادہ تر شوقیہ پڑھتے تھے یا جن سے دوسرے لوگ سوال پوچھتے تھے۔ ان بچوں نے یہ بھی بتایا کہ اکیلے کی پڑھائی میں مزہ کم آتا ہے۔ ڈک ورتھ کا مشورہ ہے کہ اسے معمول بنا لیں، روز اسی وقت اور اسی جگہ، تاکہ شروع کرنے میں قوتِ ارادی کم لگے۔
مقصد اور امید
کتاب میں مقصد (purpose) کا مطلب ہے دوسروں کی بھلائی میں حصہ ڈالنے کا ارادہ۔ ڈک ورتھ کہتی ہیں کہ صرف دلچسپی دہائیوں تک کم ہی چلتی ہے۔ جن گرٹ والے لوگوں سے انہوں نے بات کی، ان میں سے اکثر نے کہا کہ ان کا کام کسی اور کے لیے بھی اہم ہے۔ وہ اینٹیں لگانے والے مستریوں کا پرانا قصہ دہراتی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا کر رہے ہو۔ ایک نے کہا اینٹیں لگا رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا عبادت گاہ بنا رہا ہوں۔ کام دونوں کا ایک ہی ہے۔ وہ ایسی تحقیق کا حوالہ دیتی ہیں جس کے مطابق ایک ہی پیشے کے لوگ اپنے کام کو تین طرح دیکھ سکتے ہیں: صرف نوکری، کیریئر، یا زندگی کا مشن (calling)۔
امید چاروں میں آخری ہے۔ اس سے ان کی مراد اچھی قسمت کی آرزو نہیں۔ مراد یہ توقع ہے کہ میری اپنی کوشش سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہاں وہ اپنے استاد مارٹن سیلگمین (Martin Seligman) کی تحقیق سے مدد لیتی ہیں، جو سیکھی ہوئی بے بسی (learned helplessness) پر ہے، اور کیرل ڈویک (Carol Dweck) کے مائنڈ سیٹ والے کام سے بھی۔ کچھ لوگ ناکامی کو وقتی سمجھتے ہیں اور اس کی ایک خاص وجہ دیکھتے ہیں، مثلاً ایک پرچہ خراب ہوا کیونکہ تیاری کم تھی۔ وہ ان لوگوں سے جلدی سنبھل جاتے ہیں جو اسے اس بات کا پکا ثبوت مان لیں کہ میں اس قابل ہی نہیں۔
بچوں اور گروپوں میں گرٹ پیدا کرنا
آخری حصے میں سوال یہ ہے کہ گرٹ کو باہر سے کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ بچوں کی پرورش میں ڈک ورتھ یہ نہیں مانتیں کہ سختی اور شفقت میں سے ایک چننی پڑتی ہے۔ جن والدین کو وہ سراہتی ہیں وہ بچوں سے بہت کچھ مانگتے بھی ہیں اور ان کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔ اسے وہ سمجھ دار پرورش (wise parenting) کہتی ہیں۔
اپنے گھر میں وہ ایک اصول چلاتی ہیں جسے مشکل کام کا اصول (Hard Thing Rule) کہتی ہیں۔ گھر کے ہر فرد کو، والدین سمیت، ایک مشکل کام کرنا ہوتا ہے جس میں باقاعدہ مشق لگتی ہو۔ آپ چھوڑ سکتے ہیں، مگر بیچ میں نہیں۔ صرف وہاں جہاں کام خود ایک پڑاؤ پر پہنچے، جیسے سیزن کا اختتام یا وہ ٹرم جس کی فیس دی جا چکی ہے۔ اور اپنا مشکل کام آپ خود چنتے ہیں۔
بڑوں کے لیے ان کا مشورہ ہے کہ ایسے گروپ میں شامل ہوں جہاں ڈٹے رہنا عام بات ہو، کیونکہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں جیسے ہو جاتے ہیں۔ جس اسٹڈی گروپ میں سب روز دہرائی کرتے ہوں وہ آپ کو ساتھ کھینچ لے گا۔ خود سے کیا ہوا وعدہ اتنا پکا سہارا نہیں ہوتا۔
اس ہفتے آزمائیں
- اپنا سب سے بڑا لمبے عرصے کا مقصد ایک جملے میں لکھیں، پھر اس ہفتے کے کام دیکھیں اور ان پر نشان لگائیں جو اس مقصد کے کام نہیں آتے۔
- جو ہنر آپ کے لیے اہم ہے اس میں اپنی ایک کمزوری چنیں اور روز تیس منٹ صرف اسی کی مشق کریں، موبائل دوسرے کمرے میں رکھ کر۔
- ایک مشکل کام کا پکا ارادہ کریں اور وہ تاریخ طے کر لیں جس سے پہلے نہیں چھوڑیں گے، جیسے کورس یا ٹرم کا اختتام۔
- دو جملے لکھیں کہ آپ کی موجودہ پڑھائی یا نوکری آپ کے علاوہ کسی اور کے کیسے کام آتی ہے، اور انہیں ایسی جگہ رکھیں جہاں نظر پڑتی رہے۔
- ایک چھوٹے گروپ میں شامل ہوں یا خود بنائیں جو مقررہ وقت پر مل کر ایک ہی ہنر پر کام کرے۔
ہماری بے لاگ رائے
ناقدین کہتے ہیں کہ گرٹ اس خوبی سے بہت ملتی ہے جسے ماہرینِ نفسیات ذمہ دارانہ مزاج (conscientiousness) کہتے ہیں اور دہائیوں سے ناپتے آ رہے تھے۔ 2017 میں تحقیق کے ایک جائزے سے سامنے آیا کہ گرٹ اور کارکردگی کا تعلق معمولی سا ہے۔ ویسٹ پوائنٹ والا نتیجہ بھی اتنا بڑا نہیں جتنا سننے میں لگتا ہے، کیونکہ اسکور جو بھی ہو، تقریباً سب کیڈٹ گرمیوں کی ٹریننگ پوری کر لیتے ہیں۔ کتاب غربت، کمزور اسکولوں یا سیدھی سادی بری قسمت پر کم بات کرتی ہے۔ اور یہ رہنمائی بھی کم دیتی ہے کہ کب چھوڑ دینا ہی بہتر فیصلہ ہوتا ہے۔
عام سوالات
کیا گرٹ پڑھنے کے قابل ہے؟
اگر آپ کام جوش سے شروع کر کے چند مہینے بعد چھوڑ دیتے ہیں تو ہاں، خاص طور پر مشق اور مقصد والے باب۔ بس یہ یاد رکھیں کہ بعد کی تحقیق میں گرٹ اور کارکردگی کا تعلق معمولی سا نکلا ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
وہ لوگ جو ہر کام جوش سے شروع کرتے ہیں اور چند مہینے بعد چھوڑ دیتے ہیں۔ جو والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے شروع کیا ہوا کام پورا کریں، انہیں بھی یہاں کام کے طریقے ملیں گے۔
"Enthusiasm is common. Endurance is rare."
— Angela Duckworth, Grit: The Power of Passion and Perseverance
یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔
ایپ حاصل کریں