Business

گڈ ٹو گریٹ

یہ خلاصہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ Read this summary in English →

تعارف

جم کولنز (Jim Collins) کی کتاب گڈ ٹو گریٹ (Good to Great) ایک تحقیق پر کھڑی ہے۔ کولنز اور ان کی ٹیم نے ان کمپنیوں کو دیکھا جو اچھی کارکردگی سے بہت اونچی کارکردگی تک پہنچیں اور پھر وہاں ٹکی رہیں۔ انہوں نے وہ باتیں ڈھونڈیں جو واقعی عظیم کمپنیوں کو صرف اچھی کمپنیوں سے الگ کرتی ہیں۔ ان کے نتیجے چند تصورات کی شکل میں پیش کیے گئے ہیں، جیسے لیول فائیو لیڈر اور فلائی وہیل۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے

مینیجر، کمپنی شروع کرنے والے اور خاندانی کاروبار چلانے والے لوگ، جن کا کام ٹھیک چل رہا ہے مگر بہتر ہونا رک گیا ہے۔ بزنس کے طالب علموں کو بھی یہاں وہ اصطلاحیں ملیں گی جو مینیجر آج بھی میٹنگوں میں بولتے ہیں۔

تحقیق کیسے ہوئی

کولنز اور محققوں کی ایک ٹیم نے تقریباً پانچ سال اس سوال پر لگائے کہ کیا ایک اچھی کمپنی عظیم بن سکتی ہے، اور کیسے۔ انہوں نے اسٹاک مارکیٹ کے دہائیوں کے ریکارڈ کھنگالے۔ تلاش ان کمپنیوں کی تھی جن کی کارکردگی پندرہ سال مارکیٹ کی اوسط کے برابر یا اس سے نیچے رہی، پھر ایک موڑ آیا، اور اگلے پندرہ سال انہوں نے مارکیٹ سے کم از کم تین گنا بہتر نتیجہ دیا۔ گیارہ کمپنیاں اس شرط پر پوری اتریں۔ ہر ایک کے مقابلے میں اسی انڈسٹری کی ایک ایسی کمپنی رکھی گئی جسے اسی وقت ویسے ہی موقعے ملے تھے مگر وہ بہتر نہ ہوئی۔ دواؤں کی دکانوں کی چین والگرینز (Walgreens) کے سامنے اس کی حریف ایکرڈ (Eckerd) رکھی گئی۔ گروسری چین کروگر (Kroger) کے سامنے اے اینڈ پی (A&P)۔

کتاب کے نتیجے وہ باتیں ہیں جو ان گیارہ میں مشترک تھیں اور مقابلے والی کمپنیوں میں نہیں تھیں۔ کولنز کئی ایسی باتیں بتاتے ہیں جن کی ٹیم کو توقع نہیں تھی۔ تبدیلی زیادہ تر کمپنی کے اندر کے لوگوں نے چلائی، باہر سے لائے گئے مشہور سربراہوں نے نہیں۔ نہ کوئی افتتاحی تقریب ہوئی نہ کسی پروگرام کو کوئی نام دیا گیا۔ نئی ٹیکنالوجی نے چلتی ہوئی کمپنی کی رفتار بڑھائی، مگر تبدیلی اس سے شروع نہیں ہوئی۔

لیول فائیو لیڈر

اچھی سے عظیم بننے والی ہر کمپنی میں تبدیلی کے وقت ایک خاص قسم کا سربراہ تھا، جسے کولنز لیول فائیو لیڈر (Level 5 leader) کہتے ہیں۔ ان لوگوں میں عاجزی اور بہت مضبوط ارادہ ایک ساتھ تھے۔ وہ کمپنی کو آگے لے جانا چاہتے تھے، اپنے آپ کو نہیں۔ کولنز کہتے ہیں کہ وہ قیادت کے بارے میں کوئی نتیجہ ڈھونڈنے نہیں نکلے تھے اور شروع میں اسے ماننے سے کتراتے رہے۔ مگر ڈیٹا بار بار اسی طرف لے جاتا تھا۔

ان کی سب سے مشہور مثال کمبرلی کلارک (Kimberly-Clark) کے ڈارون اسمتھ (Darwin Smith) ہیں۔ وہ کمپنی کے ایک خاموش طبیعت وکیل تھے جو چیف ایگزیکٹو بنے۔ اسمتھ نے طے کیا کہ کاغذ کے پرانے کاروبار کا مستقبل بس واجبی سا ہے۔ انہوں نے ملیں بیچ دیں اور پیسہ عام گاہک کے استعمال کی چیزوں میں لگایا، جیسے کلینیکس (Kleenex) اور ہگیز (Huggies)۔

کولنز ایک عادت بتاتے ہیں جسے وہ کھڑکی اور آئینہ (the window and the mirror) کہتے ہیں۔ جب کام اچھا چلے تو یہ لیڈر کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں اور کریڈٹ دوسرے لوگوں یا اچھی قسمت کو دیتے ہیں۔ جب کام بگڑے تو آئینے میں دیکھتے ہیں اور ذمہ داری خود لیتے ہیں۔ مقابلے والی کمپنیوں کے سربراہ اکثر اس کا الٹ کرتے تھے۔

پہلے لوگ، پھر حکمتِ عملی

کولنز کا خیال تھا کہ عظیم کمپنیاں نئی سمت سے شروع کرتی ہوں گی۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگوں سے شروع ہوئیں۔ ان کی مثال ایک بس کی ہے۔ سربراہوں نے پہلے صحیح لوگوں کو بس میں بٹھایا اور غلط لوگوں کو اتارا۔ بس کہاں لے جانی ہے، یہ اس کے بعد طے کیا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر لوگ اس لیے سوار ہوئے کہ بس فلاں طرف جا رہی ہے، تو رخ بدلنے پر مسئلہ ہوگا۔ اگر وہ اس لیے سوار ہوئے کہ ساتھ کون کون بیٹھا ہے، تو رخ بدلنا کہیں آسان ہے۔

وہ کام کے چند اصول دیتے ہیں۔ کسی امیدوار پر شک ہو تو نہ رکھیں، تلاش جاری رکھیں۔ جب معلوم ہو جائے کہ کسی کو بدلنا ضروری ہے تو مہینوں ٹالنے کے بجائے قدم اٹھائیں۔ اپنے سب سے اچھے لوگ سب سے بڑے موقعوں پر لگائیں، سب سے بڑے مسئلوں پر نہیں۔ ٹیوشن سینٹر کا مالک اسے یوں آزما سکتا ہے کہ نئے کورس طے کرنے سے پہلے دو ایسے استاد ڈھونڈے جنہیں طالب علموں کی فکر ہو۔ کون سا کورس چلے گا، یہ انہی استادوں پر ٹکا ہے۔

حقیقت کا سامنا، مگر یقین کے ساتھ

اچھی سے عظیم بننے والی کمپنیوں نے اپنی حالت کے ناخوشگوار حقائق سے نظریں نہیں چرائیں۔ کولنز نے اس رویے کا نام ایڈمرل جم اسٹاک ڈیل (Jim Stockdale) پر رکھا ہے، جو ویتنام میں برسوں جنگی قیدی رہے۔ اسٹاک ڈیل نے کولنز کو بتایا کہ جو قیدی نہیں بچ سکے وہ خوش فہم تھے۔ وہ خود کو کہتے رہتے تھے کہ فلاں تہوار تک گھر پہنچ جائیں گے۔ ہر بار تاریخ گزر جاتی اور ان کا دل ٹوٹ جاتا۔ اسٹاک ڈیل کو کبھی شک نہیں ہوا کہ آخرکار وہ نکلیں گے۔ مگر انہوں نے خود کو اس بارے میں دھوکا بھی نہیں دیا کہ آج کے حالات کتنے برے ہیں۔ ان دونوں رویوں کو ایک ساتھ رکھنے کو کولنز اسٹاک ڈیل پیراڈاکس (Stockdale Paradox) کہتے ہیں۔

کاروبار میں اس کی مثال یہ ہے۔ کروگر اور اے اینڈ پی دونوں کے سامنے ثبوت تھا کہ پرانی طرز کی گروسری دکان ختم ہو رہی ہے۔ کروگر نے یہ مان لیا اور اپنے اسٹور نئے سرے سے بنائے۔ اے اینڈ پی پرانا ماڈل بچانے کے راستے ڈھونڈتی رہی۔ کولنز سربراہوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ جواب دینے سے پہلے سوال پوچھیں۔ اور ناکامی کی جانچ کریں تو قصوروار ڈھونڈنے نہ بیٹھ جائیں، تاکہ عملہ بری خبر جلدی لے آئے۔

ہیج ہاگ کانسیپٹ

یہ نام ایک پرانی کہاوت سے آیا ہے، جسے مضمون نگار آئزایا برلن (Isaiah Berlin) نے استعمال کیا۔ لومڑی بہت سی باتیں جانتی ہے اور خارپشت (hedgehog) ایک بڑی بات جانتا ہے۔ کولنز نے دیکھا کہ عظیم کمپنیاں خارپشت کی طرح چلتی تھیں۔ ہر ایک کو اپنے بارے میں ایک سادہ سی سمجھ تھی، جو تین سوالوں سے بنی تھی۔ یہ سوال تین ایسے دائروں کی شکل میں بنائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں۔ پہلا سوال ہے کہ آپ کو سب سے زیادہ لگاؤ کس چیز سے ہے۔ دوسرا یہ کہ آپ کس کام میں دنیا میں سب سے بہتر ہو سکتے ہیں، اور اتنا ہی اہم یہ کہ کس میں نہیں ہو سکتے۔ تیسرا یہ کہ آپ کی آمدنی کا انجن کس چیز سے چلتا ہے۔ اسے وہ ایک ہی پیمانے تک لے آتے ہیں، یعنی منافع کس ایک چیز کے حساب سے ناپا جائے۔

ان کی مثال والگرینز ہے۔ اس نے طے کیا کہ وہ محلے کی ایسی فارمیسی میں سب سے بہتر ہو سکتی ہے جہاں پہنچنا آسان ہو۔ اس نے اپنا بڑا پیمانہ بدل دیا۔ پہلے دیکھا جاتا تھا کہ ہر اسٹور سے کتنا منافع ہوا۔ اب دیکھا جانے لگا کہ گاہک کے ہر چکر سے کتنا منافع ہوا۔ اس حساب سے مصروف چوراہوں پر پاس پاس بہت سی دکانیں کھولنا ٹھیک بیٹھتا تھا۔ کولنز زور دیتے ہیں کہ ہیج ہاگ کانسیپٹ (Hedgehog Concept) اس بات کی ایماندار سمجھ ہے کہ آپ کس میں سب سے بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہ خواہش یا ٹارگٹ سے الگ چیز ہے۔

نظم و ضبط اور فلائی وہیل

کولنز کہتے ہیں کہ صحیح لوگ اور صاف سوچ ہو تو کمپنی کو قاعدوں سے زیادہ نظم و ضبط چاہیے۔ ان کی دلیل ہے کہ دفتری ضابطوں کا ڈھیر (bureaucracy) وہیں لگتا ہے جہاں لوگوں میں خود نظم و ضبط نہ ہو، تاکہ اس کمی کو پورا کیا جائے۔ نظم و ضبط کا بڑا حصہ یہ ہے کہ بہت سی چیزوں کو نہ کہا جائے۔ وہ کاموں کی عام فہرست کے ساتھ ایک ایسی فہرست بنانے کو کہتے ہیں جس میں وہ کام ہوں جو بند کرنے ہیں (stop-doing list)۔

ان کی آخری مثال ایک بہت بڑا اور بھاری پہیہ ہے جسے فلائی وہیل (flywheel) کہتے ہیں۔ پہلے دھکے سے وہ چند سینٹی میٹر ہلتا ہے۔ آپ اسی سمت میں دھکا لگاتے رہتے ہیں۔ بہت سے چکروں کے بعد اس کا اپنا وزن اسے گھمانے لگتا ہے۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ رفتار کس دھکے سے آئی۔ باہر والوں کو لگا کہ یہ کمپنیاں اچانک آگے نکل گئیں۔ اندر کے لوگوں نے برسوں کے لگاتار کام کی بات کی، جس میں کوئی ایک فیصلہ کن لمحہ نہیں تھا۔

مقابلے والی کمپنیاں اس چکر میں پھنسی رہیں جسے کولنز تباہی کا چکر (doom loop) کہتے ہیں۔ انہوں نے کوئی نیا پروگرام آزمایا یا کوئی بڑی کمپنی خرید لی۔ نتیجہ مایوس کن نکلا۔ اور رفتار بننے سے پہلے ہی انہوں نے پھر رخ بدل لیا۔

اس ہفتے آزمائیں

  1. بند کرنے والے کاموں کی فہرست بنائیں، جس میں دو ایسے کام ہوں جو آپ کا وقت کھاتے ہیں مگر آپ کی اصل طاقت سے باہر ہیں، اور ان میں سے ایک اسی ہفتے بند کر دیں۔
  2. اپنے لیے یا اپنے کاروبار کے لیے تینوں دائرے بنائیں اور ہر ایک میں ایماندار جواب لکھیں، ساتھ ایک ایسی چیز بھی جس میں آپ سب سے بہتر نہیں ہو سکتے۔
  3. اگلی میٹنگ میں اپنی رائے دینے سے پہلے تین سوال پوچھیں، اور سب سے پہلے بری خبر سنانے کو کہیں۔
  4. اگلی بار کوئی کام اچھا ہو تو اس کا نام لیں جسے کریڈٹ ملنا چاہیے، اور اگلی بار کچھ بگڑے تو سب سے پہلے اس میں اپنا حصہ لکھیں۔
  5. ایک عدد چنیں جو آپ کے کام کی صحت سب سے اچھی طرح دکھاتا ہو، جیسے فی گاہک منافع، اور اسے ہر ہفتے لکھتے رہیں۔

ہماری بے لاگ رائے

کتاب 2001 میں آئی اور اس کی گیارہ کمپنیوں میں سے کئی بعد میں بری طرح گریں۔ سرکٹ سٹی (Circuit City) دیوالیہ ہو گئی۔ فینی مے (Fannie Mae) کو 2008 کے مالی بحران میں امریکی حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ ویلز فارگو (Wells Fargo) ایسے اکاؤنٹ کھولتے پکڑی گئی جو گاہکوں نے مانگے ہی نہیں تھے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ طریقہ جیتنے والوں کو نتیجہ دیکھ کر چنتا ہے اور پھر ان میں خوبیاں ڈھونڈتا ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے نتیجے یہ بتاتے ہوں کہ کامیابی کیسی دکھتی ہے، یہ نہیں کہ وہ آتی کس چیز سے ہے۔ عظمت بھی صرف شیئر کی قیمت سے ناپی گئی ہے، اور گیارہ میں سے ایک کمپنی تمباکو کی ہے۔

عام سوالات

کیا گڈ ٹو گریٹ پڑھنے کے قابل ہے؟

اگر آپ کوئی کاروبار یا ٹیم چلاتے ہیں تو ہاں، خاص طور پر پہلے لوگ چننے اور فلائی وہیل والے خیالات کے لیے۔ مگر یہ یاد رکھیں کہ کتاب کی گیارہ کمپنیوں میں سے کئی بعد میں بری طرح گریں، اور ناقدین اس کے طریقے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے؟

مینیجر، کمپنی شروع کرنے والے اور خاندانی کاروبار چلانے والے لوگ، جن کا کام ٹھیک چل رہا ہے مگر بہتر ہونا رک گیا ہے۔ بزنس کے طالب علموں کو بھی یہاں وہ اصطلاحیں ملیں گی جو مینیجر آج بھی میٹنگوں میں بولتے ہیں۔

"Good is the enemy of great. And that is one of the key reasons why we have so little that becomes great."

— Jim Collins, Good to Great

یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔

ایپ حاصل کریں
Read summaries offline in the free app MyByteNest for Android: 268 book summaries, 50 of them in depth, some in Urdu. No sign-up and no subscription.
Get it on Google Play