Business

ڈیپ ورک

یہ خلاصہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ Read this summary in English →

تعارف

کیل نیوپورٹ (Cal Newport) کی کتاب ڈیپ ورک (Deep Work) پوری توجہ سے کام کرنے کے بارے میں ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ بغیر خلل کے جم کر کام کرنے کی صلاحیت آج کم لوگوں میں رہ گئی ہے، جبکہ اس کی قدر بڑھتی جا رہی ہے۔ موبائل، ای میل اور میٹنگز ہمیں مصروف تو رکھتے ہیں مگر اصل کام کم ہوتا ہے۔ کتاب ایسے اصول اور طریقے بتاتی ہے جن سے آپ اپنی توجہ واپس لے سکتے ہیں اور کم وقت میں بہتر کام کر سکتے ہیں۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے

طالب علم، پروگرامر، لکھنے والے اور دفتر میں کام کرنے والے لوگ، جو سارا دن میز پر بیٹھتے ہیں اور گھر جاتے ہوئے سمجھ نہیں پاتے کہ آج اصل میں کیا کام ہوا۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا دھیان بار بار موبائل کی طرف کھنچ جاتا ہے۔

گہرا کام کیا ہے

نیوپورٹ کام کو دو قسموں میں بانٹتے ہیں۔ پہلی قسم گہرا کام (deep work) ہے۔ یہ وہ مشکل ذہنی کام ہے جو بغیر کسی خلل کے پوری توجہ سے کیا جائے۔ اس سے آپ کی صلاحیت بڑھتی ہے اور کوئی قیمتی چیز بنتی ہے۔ ریاضی کا مشکل سوال حل کرنا یا تھیسس کا باب لکھنا اسی میں آتا ہے۔ دوسری قسم سطحی کام (shallow work) ہے، جیسے ای میل کا جواب دینا یا معمول کی میٹنگ میں بیٹھنا۔ یہ آدھی توجہ سے بھی ہو جاتا ہے اور تقریباً کسی کو بھی سکھایا جا سکتا ہے۔

ان کی دلیل کے دو حصے ہیں۔ گہرے کام کی قدر بڑھ رہی ہے، کیونکہ آج کی معیشت میں وہی لوگ آگے نکلتے ہیں جو مشکل چیزیں جلدی سیکھ لیں اور اونچے معیار کا کام کریں۔ ساتھ ہی یہ کم ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ دفتر اور موبائل دونوں میں ہر تھوڑی دیر بعد کوئی نہ کوئی چیز ٹوک دیتی ہے۔ جو ہنر قیمتی بھی ہو اور کم لوگوں کے پاس بھی ہو، وہ اپنانے والے کو دوسروں سے آگے رکھتا ہے۔ نیوپورٹ کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنا کیریئر اسی طرح بنایا ہے، حالانکہ وہ اکثر شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب کام ختم کر دیتے ہیں۔

بار بار کام بدلنے کی قیمت

میسج پر ایک نظر ڈال لینا بے ضرر لگتا ہے۔ نیوپورٹ کہتے ہیں کہ یہ مہنگا پڑتا ہے۔ وہ سوفی لیروئے (Sophie Leroy) کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں، جو اسے اٹکی ہوئی توجہ (attention residue) کہتی ہیں۔ جب آپ ایک کام چھوڑ کر دوسرے پر جاتے ہیں تو ذہن کا کچھ حصہ تھوڑی دیر پہلے والے کام میں ہی اٹکا رہتا ہے۔ جو طالب علم تیاری کے دوران ہر دس منٹ بعد واٹس ایپ دیکھتا ہے، وہ کتاب کو کبھی پوری توجہ نہیں دے پاتا۔ ان منٹوں میں بھی نہیں جب فون اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔

وہ اس بات کو ایک سادہ فارمولے میں سمیٹتے ہیں۔ اچھا کام اس سے بنتا ہے کہ آپ نے کتنا وقت لگایا اور کتنی توجہ سے لگایا، اور یہ دونوں آپس میں ضرب کھاتے ہیں۔ پوری توجہ کے دو گھنٹے اس پوری شام سے بہتر ہو سکتے ہیں جس میں دھیان بار بار بٹتا رہا ہو۔

وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ دفتر سطحی کام کی طرف کیوں کھسکتے جاتے ہیں۔ میز پر بیٹھ کر کام کرنے والے نے اصل میں کتنا کام کیا، یہ ناپنا مشکل ہے۔ اس لیے لوگ مصروف نظر آنے کا سہارا لیتے ہیں۔ ای میل کا فوراً جواب اور ہر میٹنگ میں حاضری سب کو دکھائی دیتی ہے۔ تین گھنٹے کی خاموش سوچ کسی کو نظر نہیں آتی۔ آپ خود اس وقت کو نہ بچائیں تو یہ آہستہ آہستہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

توجہ والا کام اچھا کیوں لگتا ہے

کتاب کی بات صرف کیریئر کی کامیابی پر نہیں رکتی۔ نیوپورٹ کہتے ہیں کہ جس زندگی میں گہرا کام زیادہ ہو، وہ جینے میں بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ وہ سائنس پر لکھنے والی ونی فریڈ گیلاگر (Winifred Gallagher) کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایک سنگین بیماری کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ زندگی آپ کو ویسی ہی محسوس ہوتی ہے جیسی چیزوں پر آپ توجہ دیتے ہیں۔ دن اگر ان باکس کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں میں گزرے تو زندگی بھی ویسی ہی لگے گی۔ وہ ماہرِ نفسیات میہائی چکسنٹ میہائی (Mihaly Csikszentmihalyi) کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ فلو (flow) پر ان کی تحقیق سے پتا چلا کہ لوگ اکثر اس وقت سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جب کوئی مشکل کام ان سے پورا زور مانگ رہا ہو۔ فارغ وقت میں، جب کرنے کو کچھ نہ ہو، اتنی خوشی نہیں ملتی۔

عام تجربہ بھی یہی کہتا ہے۔ جو طالب علم تین گھنٹے خاموشی سے بیٹھ کر آخرکار ایک مشکل باب سمجھ لیتا ہے، وہ عموماً اچھے موڈ میں گھر جاتا ہے۔ جس نے وہی تین گھنٹے آدھی پڑھائی اور آدھے موبائل میں گزارے ہوں، اس کا موڈ ویسا نہیں ہوتا۔

اپنی زندگی کے مطابق معمول چننا

قوتِ ارادی ختم ہو جاتی ہے، اس لیے نیوپورٹ کہتے ہیں کہ اس پر بھروسا نہ کریں۔ اس کی جگہ معمول بنائیں۔ وہ چار طریقے بتاتے ہیں۔ پہلا گوشہ نشینی والا طریقہ (monastic) ہے، جس میں سطحی ذمہ داریاں تقریباً ختم کر دی جاتی ہیں۔ کمپیوٹر سائنس دان ڈونلڈ کنوتھ (Donald Knuth) نے ای میل چھوڑ کر یہی کیا۔ دوسرا دو حصوں والا طریقہ (bimodal) ہے۔ اس میں کچھ عرصہ مکمل تنہائی میں گزرتا ہے اور کچھ عام زندگی میں۔ کارل یونگ (Carl Jung) اسی طرح کام کرتے تھے۔ وہ لکھنے کے لیے دیہات میں پتھر کے بنے ایک مکان میں چلے جاتے، پھر شہر میں اپنی مصروف پریکٹس پر لوٹ آتے۔ تیسرا مقررہ وقت والا طریقہ (rhythmic) ہے، جس میں روز وہی گھنٹے طے ہوتے ہیں۔ نوکری یا کلاسوں والے زیادہ تر لوگوں کے لیے یہی ٹھیک رہتا ہے۔ چوتھا صحافیوں والا طریقہ (journalistic) ہے، جس میں جہاں فرصت ملے وہیں گہرا کام کر لیا جاتا ہے۔ نیوپورٹ خبردار کرتے ہیں کہ نئے آدمی کے لیے یہ مشکل ہے۔

آپ جو بھی طریقہ چنیں، وہ کام شروع کرنے کا ایک بندھا ہوا طریقہ (ritual) بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ طے کریں کہ کہاں بیٹھیں گے، کتنی دیر کام کریں گے اور اصول کیا ہوں گے، مثلاً انٹرنیٹ بند رہے گا۔ نیا آدمی شاید دن میں ایک گھنٹہ ہی پوری توجہ سے کام کر پائے۔ تجربہ کار لوگ بھی کم ہی چار گھنٹے سے آگے جاتے ہیں۔

کام کے علاوہ بھی توجہ کی مشق

اس کتاب میں توجہ کو ایک ہنر مانا گیا ہے جو مشق سے بنتا ہے اور بری عادتوں سے کمزور ہوتا ہے۔ اگر آپ قطار میں کھڑے ہوتے ہی یا بس کے انتظار میں فوراً موبائل نکال لیتے ہیں تو دماغ کو سکھا رہے ہیں کہ اسے بوریت کبھی برداشت نہیں کرنی پڑے گی۔ پھر جب آپ پڑھنے بیٹھتے ہیں تو وہ وہاں بھی یہی سہولت مانگتا ہے۔

نیوپورٹ عام مشورے کو الٹ دیتے ہیں۔ دھیان بٹانے والی چیزوں سے چھٹی لینے کے بجائے خود ان چیزوں کا وقت مقرر کر دیں۔ پہلے سے طے کریں کہ انٹرنیٹ کب استعمال کریں گے۔ اس وقت تک بالکل دور رہیں، گھر پر بھی۔ وہ ایک اور مشق بتاتے ہیں جسے وہ کارآمد دھیان (productive meditation) کہتے ہیں۔ سیر پر نکلیں اور پورے راستے کام کا ایک ہی مسئلہ ذہن میں رکھیں۔ دھیان جب بھی بھٹکے، اسے واپس لے آئیں۔

سوشل میڈیا کے لیے ان کی کسوٹی زیادہ سخت ہے۔ صرف اتنا کافی نہیں کہ کسی ایپ کا کچھ نہ کچھ فائدہ ہے۔ کاریگر کوئی اوزار تبھی اپناتا ہے جب اپنے اصل مقصد کے لیے اس کا فائدہ نقصان سے صاف زیادہ ہو۔ نیوپورٹ کا مشورہ ہے کہ کسی کو بتائے بغیر تیس دن کے لیے وہ ایپ چھوڑ دیں۔ پھر خود سے پوچھیں کہ کیا یہ دن پہلے سے برے گزرے، اور کیا کسی نے محسوس بھی کیا کہ آپ وہاں نہیں ہیں۔

سطحی کام کو حد میں رکھنا

سطحی کام ختم نہیں ہو سکتا، مگر اسے حد میں رکھا جا سکتا ہے۔ نیوپورٹ کام کے ہر دن کو کاغذ پر خانوں میں بانٹتے ہیں اور ہر خانے کو ایک کام دیتے ہیں۔ یہ منصوبہ دن میں کہیں نہ کہیں ٹوٹے گا۔ جب ٹوٹے تو نیا بنا لیں۔ مقصد یہ ہے کہ اگلا کام آپ سوچ کر چنیں، بے دھیانی میں ان باکس نہ کھول بیٹھیں۔

وہ کام ختم کرنے کا وقت بھی پکا رکھتے ہیں اور اسی کو سامنے رکھ کر باقی دن ترتیب دیتے ہیں۔ وقت کی حد ہو تو کم اہم فرمائشوں سے انکار کرنا پڑتا ہے اور میٹنگز سوچ سمجھ کر رکھنی پڑتی ہیں۔ دن کے آخر میں وہ کام بند کرنے کا معمول (shutdown routine) دہراتے ہیں۔ آخری بار ان باکس دیکھتے ہیں، ادھورے کام اور کل کا منصوبہ لکھتے ہیں، پھر زبان سے کہتے ہیں کہ آج کا کام بند۔ اس کے بعد شام کو کام کے بارے میں نہیں سوچتے۔ ان کی دلیل ہے کہ آرام بھی اسی طریقے کا حصہ ہے، کیونکہ تھکا ہوا ذہن اگلی صبح توجہ نہیں دے سکتا۔

ملازموں کے لیے ایک اور مشورہ ہے۔ اپنے مینیجر سے پوچھیں کہ ہفتے کا کتنا حصہ سطحی کاموں پر لگنا چاہیے۔ ایک بار یہ حصہ طے ہو جائے تو بعد میں انکار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس ہفتے آزمائیں

  1. اس ہفتے روز ساٹھ منٹ کا ایک وقت مقرر کریں، موبائل دوسرے کمرے میں رکھیں اور صرف اپنا سب سے مشکل کام کریں۔
  2. میسج اور سوشل میڈیا دیکھنے کے لیے دن میں دو یا تین وقت طے کریں اور باقی وقت آف لائن رہیں۔
  3. ہر صبح اپنے کام کے گھنٹوں کو کاغذ پر خانوں میں بانٹیں اور ہر خانے میں ایک کام لکھیں۔
  4. کام کا دن پانچ منٹ کے معمول پر ختم کریں: ادھورے کام لکھیں، کل کا منصوبہ بنائیں اور پھر کام بند کر دیں۔
  5. اس ہفتے ایک بار ہینڈ فری گھر چھوڑ کر سیر پر جائیں اور ایک ہی مسئلے کو شروع سے آخر تک سوچیں۔

ہماری بے لاگ رائے

یہ مشورے ان لوگوں پر ٹھیک بیٹھتے ہیں جن کا وقت اپنے اختیار میں ہے، جیسے یونیورسٹی کے استاد اور پروگرامر۔ جس جونیئر ملازم کا باس فوراً جواب چاہتا ہو، یا جس کے گھر میں چھوٹے بچے ہوں، اس کے لیے بہت سی باتوں پر عمل مشکل ہوگا۔ نیوپورٹ ایسے لوگوں پر زیادہ بات نہیں کرتے۔ زیادہ تر ثبوت مشہور یا بہت کامیاب لوگوں کے قصے ہیں۔ ان سے یہ تو پتا چلتا ہے کہ گہرے کام نے ان کی مدد کی، مگر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ ہر ایک کے لیے کام کرے گا۔ سوشل میڈیا والا باب 2016 کا ہے۔ اس میں ایپس چھوڑنا جتنا آسان دکھایا گیا ہے، آج اتنا آسان نہیں، کیونکہ اب بہت سی کلاسیں اور نوکریاں انہی ایپس پر چلتی ہیں۔

عام سوالات

کیا ڈیپ ورک پڑھنے کے قابل ہے؟

اگر آپ کا وقت آپ کے اپنے اختیار میں ہے، جیسے طالب علم، پروگرامر یا یونیورسٹی کے استاد، تو یہ کتاب آپ کے کام کی ہے۔ جس کا باس فوراً جواب چاہتا ہو یا جس کے گھر میں چھوٹے بچے ہوں، اسے بہت سی باتوں پر عمل مشکل لگے گا۔

یہ کتاب کس کے لیے ہے؟

طالب علم، پروگرامر، لکھنے والے اور دفتر میں کام کرنے والے لوگ، جو سارا دن میز پر بیٹھتے ہیں اور گھر جاتے ہوئے سمجھ نہیں پاتے کہ آج اصل میں کیا کام ہوا۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا دھیان بار بار موبائل کی طرف کھنچ جاتا ہے۔

"Who you are, what you think, feel, and do, what you love, is the sum of what you focus on."

— Winifred Gallagher, quoted in the book

یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔

ایپ حاصل کریں
Read summaries offline in the free app MyByteNest for Android: 268 book summaries, 50 of them in depth, some in Urdu. No sign-up and no subscription.
Get it on Google Play