تعارف
رابرٹ گرین (Robert Greene) کی کتاب طاقت کے 48 قوانین (The 48 Laws of Power) تین ہزار سال کی تاریخ سے طاقت کے اڑتالیس اصول نکالتی ہے۔ مثالیں میکیاولی (Machiavelli)، سن زو (Sun Tzu) اور فرانس کے بادشاہ لوئی چہار دہم (Louis XIV) جیسے لوگوں سے لی گئی ہیں۔ کتاب دکھاتی ہے کہ تاریخ کے طاقتور لوگوں نے اثر و رسوخ کیسے حاصل کیا اور کیسے قائم رکھا۔ گرین اچھے برے کا فیصلہ نہیں کرتے، بس وہ بتاتے ہیں جو چلتا آیا ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے
وہ لوگ جو کسی دفتر یا خاندانی کاروبار میں نئے نئے آئے ہیں اور وہاں کی سیاست انہیں بار بار حیران کر دیتی ہے۔ اسے خود چالیں چلنے کے لیے کم اور دوسروں کی چالیں پہچاننے کے لیے زیادہ پڑھیں۔
یہ کس قسم کی کتاب ہے
رابرٹ گرین اس دعوے سے شروع کرتے ہیں کہ طاقت کے کھیل سے بچا نہیں جا سکتا۔ جہاں بھی اوپر نیچے کے درجے ہوں، پرانے شاہی دربار سے لے کر آج کے دفتر تک، وہاں فائدہ اسی کو ملتا ہے جو اپنا تاثر سنبھال کر رکھے۔ لاپروا آدمی نقصان اٹھاتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو لوگ خود کو ان کھیلوں سے اوپر بتاتے ہیں، اکثر وہی انہیں سب سے زیادہ مہارت سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔
کتاب میں اڑتالیس قوانین ہیں، ہر باب میں ایک، اور ہر باب کی ترتیب ایک جیسی ہے۔ پہلے قانون بیان ہوتا ہے۔ پھر تاریخ سے ان لوگوں کے قصے آتے ہیں جنہوں نے اسے توڑا اور بھگتا، اور ان کے جنہوں نے اس پر عمل کیا اور فائدہ اٹھایا۔ آخر میں ایک حصہ بتاتا ہے کہ کب اس قانون پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ اسے وہ الٹ صورت (reversal) کہتے ہیں۔ قصے کئی صدیوں اور کئی ملکوں سے لیے گئے ہیں۔ ان میں فرانس کے بادشاہ ہیں، چین کے جرنیل، یورپ کے رینیساں (Renaissance) دور کے بینکار اور امریکہ کے نوسرباز۔
گرین فیصلہ نہیں سناتے۔ جو طریقہ چلتا آیا ہے وہ اسے بیان کر دیتے ہیں، چاہے اس میں دھوکا اور ظلم ہو۔ لہجہ کسی ہدایت نامے جیسا ٹھنڈا ہے۔ اسی لہجے کی وجہ سے یہ کتاب مقبول بھی ہے اور بہت سے لوگوں کو ناپسند بھی۔
اپنے سے اوپر والوں کے ساتھ چلنا
پہلا قانون ہے کہ اپنے مالک سے زیادہ مت چمکو۔ گرین کا مرکزی قصہ نکولا فوکے (Nicolas Fouquet) کا ہے، جو لوئی چہار دہم کے وزیرِ خزانہ تھے۔ فوکے نے اپنے نئے محل میں بادشاہ کے اعزاز میں شاندار دعوت دی۔ شان و شوکت اتنی تھی کہ بادشاہ کو اپنا آپ چھوٹا لگا۔ کچھ ہی عرصے بعد فوکے گرفتار ہوئے اور باقی عمر قید میں گزاری۔ اس کے مقابلے میں گرین گلیلیو (Galileo) کو رکھتے ہیں۔ انہوں نے مشتری کے چاندوں کے نام میڈیچی (Medici) خاندان پر رکھے اور اس خاندان کی سرپرستی پا لی۔
عملی مطلب یہ ہے کہ اوپر بیٹھے لوگ بھی اندر سے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جگہ کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ نیا ملازم اگر پوری ٹیم کے سامنے مینیجر کی غلطی پکڑے تو بات درست ہونے کے باوجود اسے مہنگی پڑ سکتی ہے۔ وہی بات اکیلے میں کہہ دی جائے، یا کریڈٹ میں مینیجر کو شریک کر لیا جائے، تو کام بھی ہو جاتا ہے اور دشمن بھی نہیں بنتا۔
اسی سے ملتا جلتا ایک قانون کہتا ہے کہ مدد مانگتے وقت سامنے والے کے فائدے کی بات کریں۔ اس کے رحم یا پرانے احسان کا واسطہ نہ دیں۔ جس سینئر سے کوئی کام کہا جائے، وہ تب جلدی مانتا ہے جب اسے اپنا فائدہ نظر آئے۔
بات، ساکھ اور خود کو روکنا
کئی قوانین خود کو روکنے کے بارے میں ہیں۔ گرین کا مشورہ ہے کہ ضرورت سے کم بولیں۔ آپ جتنا زیادہ بولیں گے، اتنا ہی امکان ہے کہ کوئی بے وقوفی کی بات نکل جائے یا آپ کا ارادہ ظاہر ہو جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ بحث سے نہیں، عمل سے جیتیں۔ بحث جیت بھی لیں تو سامنے والے کے دل میں رنجش رہ جاتی ہے۔ کر کے دکھا دیں تو وہ قائل بھی ہو جاتا ہے اور اس کی توہین بھی نہیں ہوتی۔ جو دکاندار گاہک سے مال کے معیار پر بحث کرتا ہے، وہ گاہک کھو دیتا ہے۔ جو گاہک کو چیز خود آزما لینے دیتا ہے، اس کا گاہک ٹکا رہتا ہے۔
ساکھ کے لیے الگ قانون ہے۔ گرین اسے طاقت کی بنیاد کہتے ہیں اور اس کی کڑی حفاظت کا کہتے ہیں۔ آپ کی ایک مشہور خوبی، جیسے ایمانداری یا سخاوت، آپ کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے آپ کا بہت سا کام کر چکی ہوتی ہے۔
وہ سب سے کٹ جانے سے بھی خبردار کرتے ہیں۔ ایک قانون کہتا ہے کہ اپنے گرد قلعے نہ بنائیں۔ مطلب یہ کہ الگ تھلگ رہنا محفوظ لگتا ہے، مگر اس طرح نہ خبر پہنچتی ہے نہ ساتھی ملتے ہیں۔ دوسرا قانون کہتا ہے کہ پہچانیں آپ کا واسطہ کس سے ہے۔ جس مذاق کو ایک آدمی ہنس کر ٹال دیتا ہے، وہی مذاق دوسرے کو برسوں کے لیے دشمن بنا دیتا ہے۔
وہ قوانین جو غلط کام سکھاتے ہیں
کتاب کا اچھا خاصا حصہ ایسا رویہ سکھاتا ہے جسے زیادہ تر لوگ غلط کہیں گے۔ گرین کہتے ہیں کہ اپنے ارادے چھپاؤ۔ کام دوسروں سے کرواؤ اور نام اپنا لگاؤ۔ معلومات لینے کے لیے دوست بن کر ملو۔ دشمن کو اس طرح کچلو کہ وہ دوبارہ اٹھ کر بدلہ نہ لے سکے۔ ایک قانون چُنی ہوئی ایمانداری (selective honesty) کا ہے۔ یعنی سخاوت یا سچ کا ایک کام صرف اس لیے کرو کہ سامنے والا بے فکر ہو جائے، اور پھر اسے دھوکا دو۔
ان قوانین پر خود عمل کرنے کی ایک قیمت ہے جسے کتاب کم کر کے دکھاتی ہے۔ دربار اور نوسربازوں کی دنیا ایسی جگہیں تھیں جہاں آدمی برباد ہوتا تھا اور اس کی جگہ دوسرا آ جاتا تھا۔ خاندانی کاروبار یا چھوٹے دفتر میں آپ کا واسطہ دہائیوں تک انہی لوگوں سے رہتا ہے، اور وہ بھولتے نہیں۔
پھر بھی یہ باب اپنے بچاؤ کے لیے پڑھنے کے قابل ہیں۔ ایک بار چال سمجھ میں آ جائے تو نظر آنے لگتی ہے۔ جو ساتھی سالانہ جائزے (appraisal) کے دنوں سے پہلے اچانک مہربان ہو جائے اور آپ کے پراجیکٹس کے بارے میں دوستانہ سوال کرنے لگے، ہو سکتا ہے وہ مواد جمع کر رہا ہو۔ جو سپلائر بڑے سودے سے پہلے چھوٹا سا تحفہ بھیجے، وہ بہت پرانی چال چل رہا ہے۔
وقت، منصوبہ اور رکنے کی پہچان
عام زندگی میں سب سے زیادہ کام آنے والے قوانین صبر کے بارے میں ہیں۔ گرین کہتے ہیں کہ منصوبہ آخر تک بنائیں۔ شروع کرنے سے پہلے نتائج اور رکاوٹوں کو سوچ لیں، تاکہ حالات آپ کو ادھر ادھر نہ دھکیلتے پھریں۔ وہ صحیح وقت کی پہچان سیکھنے کا کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کبھی جلدی میں نظر نہ آئیں اور اس لمحے کا انتظار کریں جب حالات آپ کے حق میں ہوں۔
وہ جیت کے بارے میں بھی خبردار کرتے ہیں۔ آخری قوانین میں سے ایک کہتا ہے کہ جو نشانہ باندھا تھا اس سے آگے نہ جائیں۔ کامیابی انسان کو مغرور کر دیتی ہے۔ وہ طے کی ہوئی حد سے آگے بڑھتا ہے اور جتنے دشمن ہراتا ہے اس سے زیادہ بنا لیتا ہے۔ کوئی شخص تنخواہ بڑھوانے کی بات منوا لے اور پھر مزید سہولتوں پر اڑ جائے، تو وہ اچھا تاثر کھو سکتا ہے جس کی وجہ سے تنخواہ بڑھی تھی۔
آخری قانون ہے کہ کوئی ایک شکل نہ اپناؤ (assume formlessness)۔ پکی عادتیں اور پکے منصوبے ہوں تو سب کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ پھر آپ پر وار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ گرین کا مشورہ ہے کہ حالات کے مطابق ڈھلتے رہیں، جیسے پانی جس برتن میں ہو اسی کی شکل لے لیتا ہے۔
قوانین جو آپس میں ٹکراتے ہیں
ترتیب سے پڑھیں تو قوانین اکثر ایک دوسرے کے خلاف جاتے ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ ہر قیمت پر لوگوں کی توجہ حاصل کرو۔ دوسرا کہتا ہے کہ سوچو جو چاہو مگر چلو سب کی طرح۔ ایک دلیری کی تعریف کرتا ہے، دوسرا انتظار کی۔ گرین کو یہ معلوم ہے۔ باب کے آخر میں الٹ صورت والا حصہ اکثر مان لیتا ہے کہ کبھی کبھی الٹا طریقہ بہتر چلتا ہے۔
اس لیے اس کتاب پر قاعدوں کی کتاب کی طرح عمل نہیں ہو سکتا۔ اسے مختلف موقعوں کا مجموعہ سمجھیں تو زیادہ کام آتی ہے۔ ہر قصے میں کوئی شخص اپنے اردگرد کے لوگوں کو صحیح سمجھتا ہے یا غلط۔ اڑتالیس کے اڑتالیس قوانین کی تہہ میں اصل ہنر ایک ہی ہے: دوسروں پر دھیان دینا، کہ وہ کس چیز سے ڈرتے ہیں اور خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ گرین اپنے جذبات پر قابو رکھنے پر بھی زور دیتے ہیں۔ غصہ ہو یا یہ خواہش کہ سب مجھے پسند کریں، دونوں سے فیصلہ خراب ہوتا ہے۔
بہت سے پڑھنے والوں کو یہی بہتر لگتا ہے کہ کتاب کہیں سے بھی کھولیں اور ایک وقت میں ایک قانون پڑھیں۔ کتاب لمبی ہے۔ حاشیوں میں دی گئی حکایتیں اور اقوال چھوڑ بھی دیں تو اصل بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔
اس ہفتے آزمائیں
- اگلی میٹنگ میں عام دنوں سے آدھا بولیں اور نوٹ کریں کہ سننے سے کیا معلوم ہوا۔
- اگلی بار کسی سینئر سے مدد مانگنے سے پہلے ایک جملہ لکھیں کہ ہاں کہنے میں ان کا اپنا کیا فائدہ ہے۔
- اس ہفتے مینیجر سے اختلاف ہو تو ٹیم کے سامنے نہیں، اکیلے میں بات کریں۔
- کوئی پراجیکٹ شروع کرنے سے پہلے لکھیں کہ آپ اسے کہاں ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں اور کون سی دو رکاوٹیں آنے کا سب سے زیادہ امکان ہے۔
- ایک خوبی چنیں جس سے آپ پہچانے جانا چاہتے ہیں، مثلاً ہر کام وقت پر دینا، اور ایک مہینہ اس پر آنچ نہ آنے دیں۔
ہماری بے لاگ رائے
تاریخ کے قصے ہر قانون کے مطابق چنے اور کاٹے گئے ہیں۔ گرین اس کا کوئی ثبوت نہیں دیتے کہ قوانین پر چلنے والے انہیں نظرانداز کرنے والوں سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ بہت سے قوانین دھوکا سکھاتے ہیں اور دوسرے انسانوں کو شکار سمجھتے ہیں۔ اس سے ان لمبے رشتوں کا اعتماد ٹوٹ سکتا ہے جن پر ہم میں سے اکثر کی زندگی چلتی ہے۔ کتاب اپنی طرف سے کوئی اخلاقی رہنمائی نہیں دیتی۔ یہ لمبی بھی ہے، باتیں دہراتی ہے اور اس کے قوانین آپس میں ٹکراتے ہیں۔ اسے ہدایات کی طرح پڑھنے کے بجائے اس نظر سے پڑھنا زیادہ محفوظ ہے کہ کچھ لوگ ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں۔
عام سوالات
کیا طاقت کے 48 قوانین پڑھنے کے قابل ہے؟
ہاں، مگر خود چالیں چلنے کے لیے نہیں، دوسروں کی چالیں پہچاننے کے لیے۔ کتاب لمبی ہے اور باتیں دہراتی ہے، اس لیے اسے کہیں سے بھی کھول کر ایک وقت میں ایک قانون پڑھنا بہتر رہتا ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
وہ لوگ جو کسی دفتر یا خاندانی کاروبار میں نئے نئے آئے ہیں اور وہاں کی سیاست انہیں بار بار حیران کر دیتی ہے۔ اسے خود چالیں چلنے کے لیے کم اور دوسروں کی چالیں پہچاننے کے لیے زیادہ پڑھیں۔
یہ خلاصہ آف لائن پڑھیں یا سنیں۔ مفت MyByteNest ایپ (اینڈرائیڈ) میں یہ اور 267 دوسری کتابوں کے خلاصے موجود ہیں، 20 اردو میں۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن۔
ایپ حاصل کریں